حیدرآباد کی ایم پی/ایم ایل اے مقدمات کی خصوصی عدالت نے منگل 30 جون کو ایک بڑا فیصلہ سناتے ہوئے گوشہ محل کے متنازعہ بی جے پی رکنِ اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کو پیغمبرِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور نازیبا ریمارکس کے مقدمے سے بری کر دیا ہے۔ یہ معاملہ اگست 2026ء میں منگلہاٹ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت کا یہ فیصلہ استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے اور تفتیشی عمل میں سنگین تکنیکی خامیوں کے باعث سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے نے مسلم برادری اور قانونی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ اس بریت کی بنیاد بیان کی نوعیت نہیں بلکہ قانونی سقم بنے ہیں۔
یہ پورا معاملہ 22 اگست 2022ء کی رات کا ہے جب راجہ سنگھ نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی، جس میں پیغمبرِ اسلامؐ کی شان میں انتہائی نازیبا اور گستاخانہ کلمات کہے گئے تھے اور کامیڈین منور فاروقی کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ راجہ سنگھ نے اس ویڈیو کو ‘کامیڈی’ کا نام دیا تھا، جو تلنگانہ حکومت کی جانب سے منور فاروقی کو حیدرآباد میں شو کرنے کی اجازت دینے کے خلاف احتجاجاً بنائی گئی تھی۔ اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آتے ہی حیدرآباد کے اولڈ سٹی سمیت مختلف علاقوں بالخصوص شالی بندہ میں زبردست عوامی احتجاج شروع ہو گیا تھا۔ ہزاروں مسلمانوں نے سڑکوں پر نکل کر راجہ سنگھ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور کئی شہروں میں بازار بند رہے۔
عوامی غم و غصے کو دیکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے فوری طور پر راجہ سنگھ کو پارٹی سے معطل کر دیا تھا اور پولیس نے انہیں احتیاطی حراست کے قانون (PD Act) کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔ وہ تقریباً 77 دن جیل میں رہے اور ان کے خلاف حیدرآباد اور سائبر آباد پولیس نے 8 مختلف مقامات پر مقدمات درج کیے۔ تاہم، حالیہ سماعت کے دوران راجہ سنگھ کی دفاعی قانونی ٹیم نے استغاثہ کے کیس کو تکنیکی اور دستاویزی بنیادوں پر کمزور ثابت کر دیا۔ دفاعی وکلاء نے دلائل دیے کہ چارج شیٹ داخل کرنے سے قبل تفتیشی افسر نے متعلقہ مذہبی ماخذ اور متن کی شرعی و تاریخی تصدیق ہی نہیں کی تھی۔
عدالتی کارروائی کے دوران فرانزک ماہر کی رپورٹ نے بھی استغاثہ کو بڑا جھٹکا دیا، جس میں یہ تسلیم کیا گیا کہ پیش کی گئی ویڈیو کی کڑیوں (Chain of Custody) میں تسلسل نہیں تھا اور ویڈیو شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام خامیوں کی وجہ سے عدالت نے راجہ سنگھ کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت نے اس بات پر فیصلہ نہیں دیا کہ ویڈیو کا مواد گستاخانہ یا توہین آمیز تھا یا نہیں، بلکہ پولیس کی ناقص تفتیش اور ثبوتوں کو صحیح طریقے سے پیش نہ کر پانے کی وجہ سے ملزم بری ہونے میں کامیاب رہا۔
راجہ سنگھ، جن پر مسلم جذبات کو مجروح کرنے اور اشتعال انگیز تقاریر کے 40 سے زائد مقدمات درج ہیں اور وہ اکثر میں بری ہو چکے ہیں، نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے اپنی قانونی جدوجہد کی جیت قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، مسلم تنظیموں اور قانونی ماہرین نے پولیس کی ناقص کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے حساس معاملے میں چارج شیٹ کی تیاری اور شواہد کو محفوظ رکھنے میں لاپرواہی برتنا انتہائی افسوسناک ہے، جس کی وجہ سے اقلیتوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والے عناصر سزا سے بچ نکلتے ہیں۔




