کمال مولا مسجد پر مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ ناقابل قبول,اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے اس حالیہ فیصلے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں تاریخی بھوج شالا۔کمال مولیٰ مسجد کو سرسوتی مندر قرار دیا گیا ہے۔ بورڈ نے اس فیصلے کو غیر منصفانہ اور تاریخی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ کمال مولیٰ مسجد کمیٹی کے سپریم کورٹ جانے کے فیصلے کی مکمل قانونی اور اخلاقی حمایت کرے گا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر میں عبادت گاہوں کی حیثیت کے حوالے سے بحث جاری ہے۔

بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان کے ذریعے ہائی کورٹ کے فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ تاریخی شواہد، ریونیو ریکارڈز اور نوآبادیاتی دور کی سرکاری دستاویزات کے یکسر خلاف ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کا اس مقام کے ساتھ صدیوں پر محیط عبادتی تعلق رہا ہے جسے محض تہذیبی دعوؤں کی بنیاد پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ براہ راست عبادت گاہوں کے تحفظ کے قانون 1991 کی روح اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔

اس مقام کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ترجمان نے یاد دہانی کرائی کہ محکمہ آثار قدیمہ نے بھی طویل عرصے تک اس جگہ کی مشترکہ مذہبی حیثیت کو تسلیم کیا ہے۔ سرکاری ریکارڈز اور سائن بورڈز پر دہائیوں تک اس مقام کو بھوج شالا اور کمال مولیٰ مسجد کے نام سے ہی پکارا جاتا رہا۔ سال 2003 میں انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ ایک نظام وضع کیا گیا تھا جس کے تحت ہندو برادری کو منگل کے دن پوجا اور مسلمانوں کو جمعہ کے روز نماز ادا کرنے کی اجازت تھی۔ یہ مشترکہ انتظام اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ سرکاری ادارے دونوں برادریوں کے حقوق کو تسلیم کرتے تھے۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اس نظام کو منسوخ کرنا محکمہ آثار قدیمہ کے اپنے سابقہ مؤقف سے انحراف ہے۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے نے اقلیتی برادری میں قانون اور انصاف کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عدالت نے حالیہ سروے میں ملنے والے قدیم ستونوں اور نقوش کو بنیاد بنا کر فیصلہ سنایا، جب کہ مسلم فریق کے ان ٹھوس دلائل کو خاطر میں نہیں لایا گیا جن میں ثابت کیا گیا تھا کہ تاریخی ریونیو ریکارڈ میں یہ عمارت ہمیشہ مسجد کے طور پر درج رہی ہے۔ بورڈ کا مؤقف ہے کہ قرون وسطیٰ کی عمارتوں میں اکثر پرانا تعمیراتی مواد دوبارہ استعمال کیا جاتا تھا، اس لیے محض چند آثار مل جانے سے کسی قائم شدہ مسجد کی صدیوں پرانی حیثیت کو قانونی طور پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کمال مولیٰ مسجد کمیٹی کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس فیصلے کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں بھرپور قانونی جنگ لڑی جائے گی۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ادبی روایات اور تہذیبی بیانیے کو مسلسل عبادتی استعمال اور سرکاری دستاویزی ثبوتوں پر ترجیح دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اب تمام تر امیدیں سپریم کورٹ سے وابستہ ہیں کہ وہ اس معاملے میں آئین اور قانون کے مطابق شفاف فیصلہ صادر کرے گی۔

شیئر کریں۔