بھٹکل (فکروخبر نیوز) بھٹکل میں آج رات مسجد طور کے قریب عثمان نگر کراس قومی شاہراہ پر پیش آنے والے ایک خوفناک سڑک حادثے میں 65 سالہ بائک سوار موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حادثے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں جمع ہونے والے مقامی افراد نے شاہراہ پر روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کچھ دیر کے لیے ٹریفک کی آمد و رفت روک دی۔
جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت قاسم (65) کے طور پر ہوئی ہے، جو پیشے سے درزی تھے اور بھٹکل کے مین روڈ پر واقع سکینہ کمپلیکس میں اپنی دکان چلاتے تھے۔
اطلاعات کے مطابق قاسم حسب معمول اپنی دکان میں کام ختم کرنے کے بعد بائک پر عثمان نگر میں واقع اپنے گھر جارہے تھے۔ اسی دوران عمثان نگر کراس پر قومی شاہراہ عبور کرتے وقت ایک تیز رفتار لاری نے ان کی بائک کو ٹکر مار دی۔
ٹکر اس قدر سخت تھی کہ قاسم موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ اس اچانک اور المناک حادثے کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہوگئی۔حادثے کے بعد وہاں موجود افراد نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔
ان کا الزام تھا کہ اس مقام پر روشنی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے رات کے اوقات میں شاہراہ سے گزرنے والے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ احتجاج کرنے والوں کے مطابق شاہراہ پر اندھیرا ہونے کے باعث سڑک عبور کرنے کے لیے کھڑی گاڑیاں اور دو پہیہ سوار دوسری جانب سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو واضح طور پر نظر نہیں آتے، جس سے ہر وقت حادثات کا خطرہ بنا رہتا ہے۔ مقامی افراد نے اس بات پر سخت برہمی ظاہر کی کہ اہم شاہراہ پر حفاظتی انتظامات کی کمی عوام کی جانوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
انہوں نے متعلقہ ذمہ داران سے فوری توجہ دینے اور روشنی سمیت ضروری حفاظتی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ حادثے کے بعد مشتعل عوام نے احتجاجاً قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمد و رفت روک دی، جس کے نتیجے میں کچھ دیر کے لیے ٹریفک متاثر رہی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور احتجاج کرنے والے افراد سے بات چیت کی۔ پولیس کی مداخلت اور سمجھانے بجھانے کے بعد عوام نے اپنا احتجاج ختم کردیا، جس کے بعد قومی شاہراہ کو دوبارہ ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔




