بھٹکل میں بجلی کا بحران ، وعدوں کی ‘بجلی’ ، پر گھروں میں اندھیرا

بھٹکل (ڈیسک رپورٹ) ساحلی کرناٹک کے دیگر علاقوں کی طرح بھٹکل میں بھی گرمی اپنے عروج پر ہے، لیکن اس جھلساتی تپش میں عوام کے لیے سب سے بڑا عذاب بجلی کی مسلسل آنکھ مچولی بن گئی ہے۔ محکمہ ہیسکام (HESCOM) کی جانب سے 24 اپریل تک مرمتی کاموں کا عذر پیش کیا گیا تھا، لیکن آج 27 اپریل ہونے کے باوجود صورتحال بہتر ہونے کے بجائے مزید ابتر ہوچکی ہے۔ بجلی کے آنے اور جانے کا نہ کوئی وقت متعین ہے اور نہ ہی انتظامیہ کے پاس اس کا کوئی ٹھوس جواب۔

شہر میں جیسے ہی بجلی غائب ہوتی ہے، پریشان حال عوام اپنے موبائل فونز پر ہیسکام کے آفیشل میسجز تلاش کرنے لگتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بجلی جانے کے بعد میسج آتا ہے کہ "بجلی کی بحالی میں مزید چار گھنٹے لگیں گے” اور ساتھ میں کسی مرمتی کام کی تصویر بھی منسلک ہوتی ہے تاکہ عوام اس عذر کو حقیقت سمجھ کر خاموش ہوجائیں۔ یہ تصویریں اب عوام کے لیے تسلی کے بجائے بیزاری کا باعث بن رہی ہیں، کیونکہ جدید دور میں بھی گھنٹوں کی کٹوتی شہریوں کے لیے ناقابلِ برداشت ہوتی جا رہی ہے۔

اتوار اور پیر کی درمیانی رات بھٹکل کے عوام پر کسی قیامت سے کم نہ تھی۔ ساڑھے نو بجے بجلی گل ہوئی تو رات ایک بجے کے بعد محض چند منٹوں کے لیے بحال ہوئی اور پھر غائب ہوگئی پھر کچھ دیربعد کہیں جاکر بجلی بحال ہوئی۔ بجلی کی بحالی تک لوگ پنکھوں کے باوجود گرمی سے بے حال رہے۔ جن کے پاس اے سی کی سہولت ہے وہ بھی بجلی کی عدم دستیابی پر بے بس نظر آئے۔ حبس اور گرمی کے اس عالم میں شہریوں نے تسبیح و استغفار پڑھتے ہوئے رات گزاری، لیکن متعلقہ افسران کی نیند میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔

بھٹکل میں بجلی کے بحران کا واحد مستقل حل ساگر روڈ پر واقع 110 کے وی سب اسٹیشن کی بحالی بتایا جاتا ہے۔ ہیسکام کے چیئرمین سید عظیم پیر قادری نے اپنے حالیہ دورہ بھٹکل میں صحافیوں کے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ کچھ قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے یہ منصوبہ زیر التوا ہے۔ تاہم، مقامی تنظیموں اور سوشل ورکرز کی مسلسل یاد دہانیوں کے باوجود یہ معاملہ جوں کا توں برقرار ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام کو ہر سال محض 110 کے وی کا لالی پاپ دے کر خاموش کرایا جاتا رہے گا؟

بھٹکل کی عوام اب اس صورتحال سے تنگ آچکی ہے۔ ایک طرف بڑھتا ٹیمپریچر اور دوسری طرف بجلی کا غائب ہونا روزمرہ کے معمولات کو بری طرح متاثر کر رہا ہے۔ اگر عوامی نمائندوں اور ہیسکام کے اعلیٰ افسران ان تکالیف کا تھوڑا سا بھی احساس کریں جو ایک عام شہری اس شدید گرمی میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے جھیل رہا ہے، تو شاید یہ قانونی گتھیاں چند دنوں میں سلجھ سکتی ہیں۔ عوام اب وعدے نہیں بلکہ بجلی کی مسلسل فراہمی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

شیئر کریں۔