بھٹکل: (فکروخبرنیوز) بھٹکل کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھنے والی ’سرابی ندی‘، جو کبھی بحری تجارت کا مرکز اور شہر کی معیشت کے لیے شہ رگ سمجھی جاتی تھی، آج انتظامیہ کی بے رخی اور حکومتی وعدوں کے باوجود اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق یہ وہی ندی ہے جس کے راستے رانی چنا بھیرادیوی بحیرہ عرب سے اپنے محل تک کا سفر طے کرتی تھیں، لیکن آج اس کی حالت دیکھ کر ماضی کی اس عظمت کا تصور کرنا بھی محال ہے۔
مسئلہ جوں کا توں: فنڈز کی منظوری مگر کام کا انتظار
فکروخبر اور دیگر میڈیا نے اس سلسلہ میں بارہا آواز اٹھانے اور سخت عوامی مطالبہ کے بعد حال ہی میں حکومتِ کرناٹک کی جانب سے ندی کی صفائی اور اسے گہرا کرنے کے لیے 10 کروڑ روپے کے فنڈز منظور کیے گئے تھے۔ مجوزہ کاموں میں دریا کو 10 فٹ تک گہرا کرنا، جمع کیچڑ، گاد، جھاڑیوں اور کانٹے دار پودوں کو ہٹانا اور مون سون کے موسم سے پہلے پانی کے قدرتی بہاؤ کو بحال کرنا شامل ہے۔ضلع انچارج وزیر منکال ویدیا کی کوششوں سے یہ رقم تو الاٹ ہو گئی، لیکن زمینی سطح پر اب تک کوئی ٹھوس کام شروع نہیں ہو سکا۔ حال ہی میں محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام نے بھٹکل کا دورہ کر کے جنوری 2026 سے کام شروع کرنے کا یقین دلایا تھا، مگر مئی کا مہینہ شروع ہونے کے باوجود ندی کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
تاریخی ندی یا گندا نالہ؟
بھٹکل کے وسط سے گزرنے والی یہ ندی چوتھنی، شاذلی اسٹریٹ، غوثیہ اسٹریٹ، مشما اسٹریٹ اور خلیفہ اسٹریٹ جیسے گنجان آباد علاقوں سے ہو کر گزرتی ہے۔ غوثیہ اسٹریٹ میں واقع انڈر گراؤنڈ ڈرینج (UGD) پمپنگ اسٹیشن کی خرابی کی وجہ سے گندا پانی مسلسل اس ندی میں چھوڑا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ تاریخی آبی راستہ اب ایک بدبودار نالے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ندی میں جمع ہونے والی ریت، کیچڑ اور خاردار جھاڑیوں نے پانی کے بہاؤ کو روک دیا ہے، جس سے نہ صرف مچھروں کی بھرمار ہو گئی ہے بلکہ ارد گرد کے کنوؤں کا پانی بھی آلودہ ہو رہا ہے۔
عوامی مطالبہ اور سماجی تنظیموں کی جدوجہد
’سرابی ندی ہوراٹا سمیتی‘ اور مجلسِ اصلاح و تنظیم جیسے اداروں نے اس مسئلے کو لے کر کئی مرتبہ مختلف افسران سے ملاقاتیں کیں ۔ مقامی نوجوانوں اور اسپورٹس کلبوں کا کہنا ہے کہ اگر مانسون کی آمد سے قبل ندی کی گہرائی اور صفائی کا کام مکمل نہیں کیا گیا تو بارش کے دوران نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ عوام کا سوال ہے کہ جب بجٹ منظور ہو چکا ہے اور ٹیکنیکل سروے بھی مکمل ہے، تو پھر کام شروع کرنے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے؟




