آسام میں NEET احتجاج کے لیے واٹس ایپ گروپ بنانے پر ۳ مسلم طلباء گرفتار

آسام کے ضلع لکھم پور کے علاقے لالوک میں پولیس نے تین اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو ملک گیر تعلیمی تحریک اور نیٹ امتحانات کے خلاف پرامن احتجاج کی منصوبہ بندی کرنے کے الزام میں گرفتار کر کے جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیج دیا ہے۔ گرفتار ہونے والے نوجوانوں کی شناخت ۲۳ سالہ منجور الرحمن، ۲۱ سالہ اشرف الاسلام اور ۲۳ سالہ عبد القاسم کے طور پر ہوئی ہے۔ منجور اور اشرف ایم کام کے طالب علم ہیں جبکہ عبد القاسم فارماسیوٹیکل سائنس سے گریجویٹ ہیں اور ایک نجی اسکول میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق ان نوجوانوں کے اہلخانہ نے بتایا کہ انہوں نے ملک بھر میں جاری تعلیمی اصلاحات اور طلباء کی تحریک کی حمایت میں ایک پرامن مظاہرے کا اہتمام کرنے کے لیے واٹس ایپ گروپ بنایا تھا۔ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے ان نوجوانوں نے کسی بھی قسم کے مظاہرے سے قبل لالوک پولیس اسٹیشن میں باضابطہ درخواست دے کر پولیس سے اجازت بھی مانگی تھی، جسے انتظامیہ نے منسوخ کر دیا تھا۔ تاہم احتجاج منعقد ہونے سے پہلے ہی پولیس نے ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں تحویل میں لے لیا۔

منجور الرحمن کے والد مجیب الرحمن نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے نے کوئی غیر آئینی کام نہیں کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ملک بھر میں نوجوان اور طلباء احتجاج کر رہے ہیں اور ان کی گرفتاری نہیں ہو رہی، تو ابھی مظاہرہ منعقد بھی نہیں ہوا تھا کہ ان کے بچوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اشرف الاسلام کے والد ایوب علی نے پولیس کے اس دوہرے رویے اور نسلی تعصب پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کے بچوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دیگر برادریوں کے خلاف اس طرح کی یکطرفہ کارروائیاں نہیں دیکھی جا رہیں۔

آسام پولیس نے تینوں نوجوانوں کے خلاف بھارتیہ نائے سنہیتا (BNS) کی دفعہ ۱۵۲ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ دفعہ ۱۵۲ ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے سے متعلق سرگرمیوں پر عائد کی جاتی ہے۔ پولیس نے تفتیش کے لیے عدلیہ سے ان کی پولیس کسٹڈی کی مانگ کی تھی، جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے تینوں نوجوانوں کو جوڈیشل کسٹڈی میں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ جمہوری اور آئینی حقوق کے تحت پرامن احتجاج کا حق مانگنے پر اتنی سنگین دفعات کے اطلاق پر انسانی حقوق کے فعال کارکنان اور قانونی ماہرین کی جانب سے شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں۔