آسام الیکشن سے قبل اے آئی پروپیگنڈا بے نقاب، مسلم برادری اور اپوزیشن کو نشانہ بنانے کا انکشاف


آسام اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل ایک تشویشناک رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے منظم نیٹ ورک کے تحت مسلم برادری اور اپوزیشن قیادت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ’’ڈائسپورا اِن ایکشن فار ہیومن رائٹس اینڈ ڈیموکریسی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق اس مہم میں اے آئی سے تیار کردہ مواد، انتخابی فہرستوں سے اخراج اور ریاستی سطح پر بیانیہ سازی جیسے عوامل شامل ہیں، جو انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک اور انسٹاگرام پر اے آئی سے تیار کردہ 432 پوسٹس نے مجموعی طور پر 4 کروڑ 54 لاکھ ویوز حاصل کیے، جبکہ یہ مواد ایک منظم چھ سطحی نیٹ ورک کے ذریعے تیار کیا گیا جس کی مجموعی رسائی 40 کروڑ سے زائد فالوورز تک رہی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بڑے پیمانے پر سیاسی اثراندازی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق کم از کم 31 تصدیق شدہ ڈیپ فیک ویڈیوز میں کانگریس کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار Gaurav Gogoi کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں جھوٹے طور پر پاکستانی ایجنٹ اور مسلم نواز شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان ویڈیوز کو نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ مبینہ طور پر حکومتی شخصیات کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی پھیلایا گیا۔ مزید برآں، چھ اے آئی ویڈیوز میں ان کی اہلیہ الزبتھ کولبرن کو بھی نشانہ بنایا گیا، حالانکہ وہ کسی سرکاری عہدے پر فائز نہیں ہیں۔

رپورٹ میں ایک اور سنگین دعویٰ یہ کیا گیا کہ ایک اے آئی ویڈیو میں آسام کے وزیر اعلیٰ Himanta Biswa Sarma کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا، جسے بعد میں حذف کر دیا گیا۔ تاہم، رپورٹ کے مطابق ایسے مواد کی تخلیق اور ترسیل میں دانستہ تبدیلیاں کی گئیں تاکہ قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ مسلم برادری کے خلاف چار سطحی اخراجی مہم بھی سامنے آئی ہے، جس میں انہیں غیر انسانی قرار دینا، ووٹر لسٹ سے خارج کرنا، ثقافتی شناخت کو کمزور کرنا اور سیاسی نمائندگی کو محدود کرنا شامل ہے۔ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کے دوران وزیر اعلیٰ نے خود اعلان کیا تھا کہ لاکھوں ’’میاں‘‘ ووٹرز کے نام حذف کیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں تقریباً 2 لاکھ 43 ہزار افراد کے نام ووٹر لسٹ سے نکال دیے گئے۔

حد بندی کے عمل میں بھی نمایاں تبدیلیاں کی گئیں، جس کے نتیجے میں مسلم اکثریتی حلقوں کی تعداد تقریباً 35 سے کم ہو کر 20 رہ گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ Election Commission of India نے ضابطہ اخلاق کی 119 خلاف ورزیوں پر کوئی کارروائی نہیں کی، جن میں سے 84 کو انتہائی سنگین قرار دیا گیا، جبکہ ان میں وزیر اعلیٰ کی 15 خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے کردار پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کسی بھی متنازعہ یا اے آئی سے تیار کردہ مواد کو ہٹایا نہیں گیا، جبکہ Meta Platforms کی جانب سے اعلان کردہ اے آئی لیبلنگ پالیسی بھی نافذ نہیں کی گئی اور 172 پوسٹس پر کوئی وارننگ یا لیبل نہیں لگایا گیا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’آسام ماڈل‘‘ محض ایک ریاست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس میں استعمال ہونے والی تکنیک، جیسے ووٹر لسٹ میں رد و بدل، حدود بندی کے ذریعے آبادیاتی اثراندازی اور اے آئی کے ذریعے فرقہ وارانہ مواد کی تیاری، قومی سطح پر بھی اپنائی جا سکتی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔

آخر میں رپورٹ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو انتخابی عمل کی شفافیت، اقلیتوں کے حقوق اور جمہوری اقدار کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔