بھٹکل (فکروخبر نیوز) نوجوان نسل کو منشیات کے مضر اثرات، موبائل فون کی لت اور موجودہ ڈیجیٹل دور میں درپیش مختلف چیلنجوں سے آگاہ کرنے کے مقصد سے آل انڈیا پیامِ انسانیت بھٹکل یونٹ اور بھٹکل مسلم یوتھ فیڈریشن کے مشترکہ تعاون سے شہر کے مختلف تعلیمی اداروں میں بیداری پروگرام منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں آل انڈیا پیامِ انسانیت کے اورنگ آباد یونٹ سے تشریف لانے والے ڈاکٹروں اور ماہرین نے طلبہ کی رہنمائی کرتے ہوئے منشیات سے دور رہنے اور موبائل فون کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی اہمیت واضح کی۔
اس بیداری مہم کے تحت انجمن آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کالج، علی پبلک اسکول اینڈ پری یونیورسٹی کالج اور شمس انگلش میڈیم اسکول اینڈ شمس پری یونیورسٹی کالج میں خصوصی نشستوں کا اہتمام کیا گیا، جن میں بڑی تعداد میں طلبہ نے حصہ لیا۔
انجمن آرٹس، سائنس اینڈ کامرس کالج میں منعقدہ پروگرام کے دوران اورنگ آباد سے آئے ہوئے مہمانوں نے منشیات اور موبائل فون کی لت جیسے اہم سماجی مسائل پر معلوماتی گفتگو کی۔ انہوں نے طلبہ کو ان مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے نوجوان نسل میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ کالج کے مختلف شعبوں کے طلبہ نے اس نشست میں سرگرمی کے ساتھ شرکت کی۔
اسی طرح علی پبلک اسکول اینڈ پری یونیورسٹی کالج میں منشیات کے خلاف خصوصی بیداری پروگرام منعقد ہوا، جس میں اورنگ آباد سے آئے ہوئے ڈاکٹروں اور ماہرین نے طلبہ کو نشہ آور اشیاء کے استعمال سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے منشیات سے دور رہنے اور صحت مند زندگی اختیار کرنے کی اہمیت اجاگر کی۔ اس پروگرام کا بنیادی پیغام تھا کہ نوجوان منشیات کو نہ کہیں اور صحت مند زندگی کا انتخاب کریں۔
شمس انگلش میڈیم اسکول اینڈ شمس پری یونیورسٹی کالج میں بھی بیداری نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں مہمانوں نے موبائل فون کی لت، منشیات کے استعمال اور ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کو درپیش مسائل پر طلبہ سے گفتگو کی۔
علی پبلک اسکول اور شمس کے تعلیمی اداروں میں منعقدہ نشستوں کے دوران مختلف سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ان سرگرمیوں کا مقصد طلبہ کی صلاحیتوں اور خوبیوں کو پہچاننا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں اپنی قابلیت کے مثبت استعمال کی طرف متوجہ کرنا تھا۔
ان پروگراموں میں طلبہ نے نہایت دلچسپی کے ساتھ حصہ لیا، جبکہ متعلقہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے بھی پروگراموں کے انعقاد میں بھرپور تعاون فراہم کیا۔




