مغربی ایشیا اور خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا اور اس کی ذیلی ایئرلائن ایئر انڈیا ایکسپریس نے سعودی عرب کے لیے اپنے تمام فضائی آپریشنز کی معطلی میں 24 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ ایئر انڈیا کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق مسافروں اور عملے کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ریاض، جدہ اور دمام کے لیے چلنے والی تمام طے شدہ پروازیں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔ ایئرلائن انتظامیہ نے مسافروں کو ٹکٹوں کی منسوخی، ری فنڈ اور متبادل تاریخوں کے انتخاب کے حوالے سے سہولیات فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
اس فیصلے سے قبل دیگر معروف بھارتی فضائی کمپنیوں انڈیگو اور اکاسا ایئر نے بھی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں کے لیے اپنی سروسز منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انڈیگو نے اپنی پروازوں کی معطلی 24 اکتوبر تک بڑھائی ہے، جبکہ اکاسا ایئر نے ریاض کے لیے 24 اکتوبر اور جدہ کے لیے 21 اکتوبر تک اپنے تمام فضائی راستے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہوابازی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں پروازوں کے غیر معینہ تعطل سے فضائی کمپنیوں کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی فضائی راستوں میں تبدیلی سے سفری اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق مغربی ایشیا میں یہ نئی کشیدگی یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری بنیادی ڈھانچے اور ریاض ایئرپورٹ کے اطراف کیے جانے والے ڈرون و میزائل حملوں کے بعد شدت اختیار کر گئی ہے۔ بین الاقوامی ایوی ایشن ایجنسیوں نے خلیجی فضائی حدود کے کچھ حصوں کو شہری پروازوں کے لیے پرخطر قرار دیتے ہوئے ایئرلائنز کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ایڈوائزری جاری کی تھی۔ اس کشیدہ صورتحال نے نہ صرف تجارتی پروازوں کے راستوں کو متاثر کیا ہے بلکہ خطے کے اہم ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
فضائی سروسز کی اس اچانک معطلی سے بھارت سے سعودی عرب کا سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ خلیجی ممالک میں خدمات انجام دینے والے بھارتی مزدور اور پیشہ ور افراد اپنی ملازمتوں پر واپسی کے لیے پھنس گئے ہیں، جبکہ عمرہ کی سعادت کے لیے جانے والے زائرین اور فریضے کی ادائیگی کے بعد واپسی کے منتظر افراد کے شیڈول بھی درہم برہم ہو چکے ہیں۔ ہوائی ٹکٹوں کی قلت اور دیگر بیرونی ممالک کی ایئرلائنز کے کرایوں میں اچانک اضافے نے عام مسافروں پر شدید معاشی بوجھ ڈال دیا ہے، جس کے حل کے لیے کمیونٹی تنظیمیں متبادل انتظامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
شہری ہوا بازی کی وزارت اور متعلقہ ادارے صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں اور ایئرلائنز نے واضح کیا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال کی بحالی اور کلیئرنس ملتے ہی معمول کا شیڈول بحال کر دیا جائے گا۔ مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر جانے سے قبل اپنی متعلقہ ایئرلائنز کی ویب سائٹس اور کسٹمر سپورٹ کے ذریعے اپنی فلائٹ کا تازہ ترین اسٹیٹس ضرور چیک کریں۔




