بنٹوال: بنٹوال کے سجیپا منّور گاؤں کے الاڈی کوپل میں پیر کی صبح ایک انتہائی غم ناک واقعہ پیش آیا، جہاں اپنے نو تعمیر شدہ مکان کی دعوت کے مقررہ دن ہی ایک نوجوان عالمِ دین داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ 36 سالہ امیر ارشدی، جو سجیپانڈو کے رہنے والے پتھوموناکا کے فرزند تھے، حرکتِ قلب بند ہو جانے کی وجہ سے اچانک انتقال کر گئے۔
امیر ارشدی گزشتہ پانچ سالوں سے تلی پڈپو کی مسجد الہدیٰ میں بحیثیت خطیب خدمات انجام دے رہے تھے۔ وہ ایک بہترین مقرر کے طور پر جانے جاتے تھے اور مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے جماعت کی حدود میں کئی نمایاں تبدیلیاں لائی تھیں، بالخصوص نوجوانوں میں دینی شعور بیدار کرنے کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش تھیں۔
بتایا جاتا ہے کہ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے گردے کے عارضے میں مبتلا تھے اور ان کا علاج چل رہا تھا۔ اتوار کی آدھی رات کو انہیں اچانک سینے میں شدید درد محسوس ہوا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر بی سی روڈ کے قریب واقع ایک نجی اسپتال لے جایا گیا۔ ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں منگلورو منتقل کیا جا رہا تھا، لیکن افسوس کہ وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔
مرحوم کے نو تعمیر شدہ مکان کی رسمی تقریبِ افتتاح (ہاؤس وارمنگ) 17 اپریل کو منعقد ہوئی تھی، جبکہ رشتہ داروں اور دوست احباب کے لیے آج پیر (27 اپریل) کو دعوت کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اتوار کی دیر رات تک امیر ارشدی نے خود فون کر کے اپنے دوستوں اور عزیزوں کو اس خوشی کی محفل میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ جن لوگوں نے ان کی دعوت قبول کی تھی وہ ان کے اچانک انتقال کی خبر سن کر گہرے صدمے میں ہیں۔ جس گھر اور گاؤں میں آج خوشی کا ماحول ہونا چاہیے تھا، وہاں اب غم میں ڈوبا ہوا ہے۔
مرحوم اپنے پسماندگان میں والدین، اہلیہ، ایک بیٹا، ایک بیٹی اور مداحوں کی بڑی تعداد چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔




