اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں اندرا پورم کے مقام پر قائم معروف دینی تعلیمی ادارے جامعہ خلفائے راشدین کو عدالتی احکامات کی روشنی میں دوبارہ کھولنے کے لیے باضابطہ انتظامی عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ ضلعی اقلیتی بہبود افسر نے وقف انسپکٹر کو احکامات جاری کیے ہیں کہ وہ مدرسے کے احاطے پر لگی سیل کو فوری ہٹانے کو یقینی بنائیں اور عدالتی ہدایات کے عین مطابق ادارہ منتظمین کے سپرد کریں۔ یہ پیش رفت الٰہ آباد ہائی کورٹ کی اس سخت ہدایت کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انتظامیہ کی یکطرفہ کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے مقررہ وقت میں عمارت کو اصل مالکان کے حوالے کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔
ضلع اقلیتی بہبود افسر کیلاش چندر تیواری کی جانب سے جاری کردہ سرکاری مراسلے میں وقف انسپکٹر سنت رام پال کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عدالتی حکم کی پابندی کرتے ہوئے سیل ہٹانے اور قبضہ بحال کرنے کی تفصیلی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کریں۔ الٰہ آباد ہائی کورٹ نے مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو پندرہ دن کا وقت دیا تھا کہ وہ درخواست گزار کا موقف سن کر فیصلہ صادر کریں، بصورت دیگر سیل خود بخود غیر مؤثر ہو جائے گی اور ادارے کا کنٹرول انتظامی کمیٹی کو واپس سونپ دیا جائے گا۔ چونکہ انتظامیہ کی جانب سے کوئی منفی حکم یا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا، اس لیے اب عمارت کے دروازے طلبہ کے لیے دوبارہ کھولنے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔
اس معاملے کا پس منظر رواں برس چھ جون سے جڑتا ہے، جب غازی آباد کی بلدیاتی میئر سنیتا دیال نے ہندن ندی میں گوشت پھینکے جانے کے مبینہ الزامات عائد کیے تھے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کے مطابق، ان بے بنیاد الزامات کے بعد مدرسے کی طرف جاتے ہوئے معصوم اور نابالغ طلبہ کو ہراساں کیا گیا اور مقامی پولیس پر دباؤ ڈال کر مدرسے کے معزز اساتذہ کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرا کر انہیں سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا گیا تھا۔ اگرچہ بعد میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے تمام گرفتار اساتذہ کو ضمانت پر رہا کر دیا تھا، مگر انتظامیہ نے پورے تعلیمی احاطے کو تالے لگا کر سیل کر رکھا تھا۔
شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم اے پی سی آر نے اس من مانی کارروائی کے خلاف قانونی راستہ اختیار کیا۔ ایڈووکیٹ محمد خالد اور ایڈووکیٹ عمر خالد نے الٰہ آباد ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن کے ذریعے انتظامی اقدام کو قانون کے دائرے سے باہر اور بنیادی انسانی و آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا۔ دوسری جانب غازی آباد کی مقامی عدالتوں میں ایڈووکیٹ ندیم اختر نے کیس کی مضبوط پیروی کی۔ وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ بغیر کسی منصفانہ سماعت اور تحقیقات کے محض افواہوں یا سیاسی بیانات کی بنیاد پر ایک اقلیتی تعلیمی ادارے کو تالا لگا دینا ریاستی اختیارات کا کھلم کھلا غلط استعمال ہے۔
ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو مسلم اقلیت اور انصاف پسند حلقوں میں آئین کی بالادستی اور قانونی فتح کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ خطے میں اقلیتی اداروں کے خلاف بلا جواز انتظامی شکنجے اور سیاسی مداخلت کے خدشات کے بیچ یہ عدالتی حکم ایک اہم نظیر ثابت ہوا ہے۔ مقامی آبادی نے اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بے گناہ اساتذہ اور طلبہ کی تعلیمی زندگی کو متاثر کرنے والے اصل ذمہ داروں کے خلاف بھی احتساب کا دائرہ تنگ کیا جائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی اقلیتی ادارے کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جا سکے۔




