کیرالہ کے تجارتی مرکز کوچی میں منعقدہ ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے طرزِ عمل پر شدید نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک میں شہریوں کی بنیادی آزادیوں کو دانستہ طور پر سلب کیا جا رہا ہے اور اقتدار کے ایوان یہ طے کرنے کی کوشش میں ہیں کہ عوام کیا کھائیں، کس سے ذاتی تعلقات قائم کریں اور کسے ووٹ دیں۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے عمل اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی پالیسیوں کے خلاف منعقدہ اس ریلی میں انہوں نے اعلان کیا کہ گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود ان کا ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔
کوچی میں ’جنتر منتر ایٹ کوچی‘ کے عنوان سے منعقدہ اس جلسے میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حال ہی میں دہلی کے جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے کے الزام میں اپنی اور اپنے ساتھیوں سورو داس اور آشوتوش رنکا کی گرفتاری کا حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد ہندوستان میں ترنگا لہرانے پر شہریوں کو پابندِ سلاسل کرنا نوآبادیاتی دور اور برطانوی راج کی آمرانہ روش کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانونی کارروائیوں کا خوف ان کی تحریک کو سست نہیں کر سکتا اور وہ ملک کے ہر کونے میں جمہوری حقوق اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔
اپنے خطاب کے دوران انہوں نے حکومتی ترجیحات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار پر قابض عناصر نے پہلے کھانے پینے کی عادات پر قدغن لگانے کی کوشش کی، اس کے بعد شہریوں کے نجی فیصلوں اور شادی بیاہ کے اختیارات میں مداخلت کی گئی اور اب انتخابی نظام کے ذریعے حقِ رائے دہی کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹوں کی تصدیق اور اصلاح کے لیے نافذ کردہ خصوصی مہم کو اپوزیشن حلقوں اور عام ووٹروں کے حقوق محدود کرنے کے لیے ایک حربے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے آزاد اور منصفانہ انتخابی عمل پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔
تاریخی اور نظریاتی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے ہندوستان کی آئینی بنیادوں کا موازنہ آزادی کی جدوجہد کے رہنماؤں سے کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو آئینی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی، مہاتما گاندھی کو ملک کی روح اور جواہر لعل نہرو کو جدید ریاست کا دماغ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی موجودہ سیاسی قیادت تاریخ کی ان عظیم شخصیات کے مقام کو نیچا نہیں دکھا سکتی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنوع، شمولیت اور سماجی انصاف کی جو اقدار ملک کے دستور میں درج ہیں، ان کا ہر قیمت پر دفاع کیا جائے گا۔
جمہوری اداروں کی خود مختاری اور شہریوں کی آزادیوں کے تحفظ کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے تمام انصاف پسند طبقات کو اس مہم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ سیاسی اور سماجی مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور شخصی آزادیوں پر اٹھائے جانے والے یہ سوالات آنے والے دنوں میں عوامی حلقوں میں مزید بحث کو جنم دیں گے، جبکہ منتظمین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کیرالہ سے دہلی تک اس احتجاجی سلسلے کو مزید وسعت دیں گے۔




