تعلیم کو بنیاد بنا کر اساتذہ انتخابی ڈیوٹی سے انکار نہیں کر سکتے، الٰہ آباد ہائی کورٹ

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی انتخابی خدمات کے حوالے سے ایک انتہائی واضح اور قانونی فیصلہ صادر کیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے دو ٹوک انداز میں کہا ہے کہ اگرچہ اساتذہ کا بنیادی فریضہ بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہے، لیکن ملکی آئین اور عوامی نمائندگی قانون کے تحت انہیں انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں کی تیاری سے متعلق ذمہ داریوں پر قانونی طور پر مامور کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اساتذہ تدریسی مصروفیات یا تعلیمی حرج کو بنیاد بنا کر الیکشن ڈیوٹی انجام دینے سے انکار نہیں کر سکتے۔

یہ فیصلہ جسٹس ونود دیواکر کی سنگل بنچ نے سہارنپور کے جونیئر اور سینئر بنیادی اسکولوں میں تعینات عذرا پروین سمیت پانچ معاون اساتذہ کی جانب سے دائر کردہ مشترکہ رٹ پٹیشن کو خارج کرتے ہوئے سنایا۔ درخواست گزار اساتذہ نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انہیں بوتھ لیول آفیسر یعنی بی ایل او کے طور پر ووٹر لسٹوں کی تیاری اور نظر ثانی جیسے انتظامی امور سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ ان کا موقف تھا کہ ان کے سروس رولز اور ملازمت کے ضوابط میں بی ایل او کی ذمہ داریاں شامل نہیں ہیں، اس لیے ان پر یہ غیر تدریسی کام زبردستی تھوپنا غیر قانونی ہے۔

درخواست گزاروں نے آئینِ ہند کی دفعہ 21-اے کے تحت حاصل بنیادی حقِ تعلیم اور رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے مقاصد کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ تدریسی اوقات کے دوران انتخابی مہمات میں جھونکے جانے سے بچوں کی تعلیم کا ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ اسکول کے اساتذہ کو مکمل یکسوئی کے ساتھ کلاس روم تک محدود رکھا جائے تاکہ بنیادی تعلیم کا معیار متاثر نہ ہو۔

عدالت نے عرضی گزاروں کے ان دلائل کو یکسر مسترد کرتے ہوئے قانون کی شقوں کی تفصیلی تشریح پیش کی۔ بنچ نے واضح کیا کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کی دفعہ 27 اگرچہ اساتذہ کو عام غیر تدریسی امور پر لگانے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، لیکن اس قانون میں انتخابی فرائض، مردم شماری اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی کاموں کو باضابطہ استثنا حاصل ہے۔ عدالت عالیہ نے قرار دیا کہ بی ایل او کا کام، جس میں ووٹر لسٹوں کی تیاری، ان کی جانچ، تصدیق اور اصلاح جیسے حساس مراحل شامل ہیں، عوامی نمائندگی قانون 1950 کے تحت ایک ناگزیر قانونی فریضہ ہے اور یہ تمام سرگرمیاں انتخابی عمل کے لازمی حصے میں شمار ہوتی ہیں۔

عدالتی فیصلے کے نتیجے میں ریاست کے ان ہزاروں سرکاری اساتذہ کے لیے صورتحال واضح ہو گئی ہے جو انتخابی ڈیوٹیوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا ارادہ رکھتے تھے۔ الیکشن کمیشن اور ضلعی انتظامیہ کے لیے یہ فیصلہ بڑی قانونی راحت کا سبب بنا ہے، کیونکہ انتخابی فہرستوں کی درستگی کے لیے نچلی سطح پر بنیادی طور پر اساتذہ کے عملے پر ہی انحصار کیا جاتا رہا ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد سہارنپور سمیت ریاست بھر کے اساتذہ کے لیے بی ایل او کی ڈیوٹی انجام دینا قانونی طور پر لازمی قرار پا گیا ہے۔

شیئر کریں۔