عدلیہ پر تنقید کا معاملہ: سی جے پی لیڈران رتنا سنگھ اور سورو داس کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی تیاریاں تیز

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اہم قائدین رتنا سنگھ اور سورو داس کے خلاف عدلیہ کے خلاف مبینہ توہین آمیز تبصرے کرنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ دہلی حکومت کے ایڈیشنل اسٹینڈنگ کونسل امول سنہا نے سی جے پی کے قانونی شعبے کی سربراہ رتنا سنگھ کے خلاف مقدمہ چلانے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جبکہ جماعت کے شریک کنوینر سورو داس کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت کے لیے مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل سے رجوع کیا گیا ہے۔

رتنا سنگھ کے خلاف یہ کارروائی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ کی بنیاد پر شروع کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے دہلی کی ساکیت کورٹ کے ایک جج سے متعلق الزام عائد کیا تھا کہ وہ قانون کے مطابق کام کرنے کے بجائے اپنے آقا کے اشاروں اور احکامات پر عمل پیرا ہیں۔ رتنا سنگھ نے یہ تبصرہ اس وقت کیا تھا جب وہ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے سے متعلق اپنی درخواست کی سماعت میں پیش ہوئی تھیں۔ ان کا موقف تھا کہ پولیس نے انہیں غیر قانونی طور پر تحویل میں لے کر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شرکت سے زبردستی روکا تھا۔ ایڈوکیٹ کوشک چٹرجی نے ان بیانات پر سخت اعتراض کرتے ہوئے توہین عدالت کی اجازت طلب کی تھی، جس پر دہلی حکومت کے کونسل نے قرار دیا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ بیانات توہین عدالت ایکٹ کی زد میں آتے ہیں۔

دوسری جانب ممبئی میں بی جے پی کارکن اور ایڈوکیٹ وویکانند گپتا نے سی جے پی کے شریک کنوینر سورو داس کے خلاف کارروائی کے لیے مہاراشٹر کے ایڈوکیٹ جنرل کو تحریری درخواست ارسال کی ہے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سورو داس نے 3 نومبر کو سوشل میڈیا پر عدلیہ سے متعلق توہین آمیز ریمارکس کیے۔ رپورٹ کے مطابق سورو داس نے اپنی پوسٹ میں الزام لگایا تھا کہ کچھ جج قانون کی حکمرانی کی پاسداری کرنے کے بجائے ذاتی تعصبات اور مفروضوں پر فیصلے صادر کر رہے ہیں، اور انہوں نے عدلیہ پر حکومتی اختیارات کے غلط استعمال کو روکنے میں ناکام رہنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے نظام پر بدنما داغ قرار دیا تھا۔

اس پیش رفت کو دونوں ریاستوں میں جاری سیاسی کشیدگی اور اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف قانونی دباؤ کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی شہری کے خلاف فوجداری توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے لیے متعلقہ ایڈوکیٹ جنرل یا مجاز قانونی اتھارٹی کی پیشگی اجازت لازمی ہوتی ہے تاکہ عدالت کے وقار کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

دہلی میں منظوری ملنے کے بعد رتنا سنگھ کے خلاف ہائی کورٹ میں کارروائی کا آغاز متوقع ہے، جبکہ مہاراشٹر میں ایڈوکیٹ جنرل کے فیصلے کے بعد سورو داس کے معاملے پر قانونی کارروائی کا تعین ہوگا۔

شیئر کریں۔