گرتی شرحِ پیدائش اور آبادی کا توازن: سپریم کورٹ نے دو بچوں کے پرانے عدالتی فیصلوں پر نظرثانی کادیااشارہ

سپریم کورٹ آف انڈیا نے ملک میں گرتی ہوئی شرحِ افزائش (فرٹیلٹی ریٹ) پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دو بچوں کی پالیسی اور اس سے متعلق تعزیری قوانین پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جسٹس پی ایس نرسمہا کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے جمعرات کو مہاراشٹر ولیج پنچایت ایکٹ کے تحت دو سے زیادہ بچے ہونے پر ایک خاتون سرپنچ کی نااہلی کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کرتے ہوئے یہ معاملہ باضابطہ طور پر تین ججوں کی بڑی بنچ کو بھیجنے کی ہدایت جاری کی۔ عدالتِ عظمیٰ نے قرار دیا کہ بدلتے ہوئے ڈیموگرافک تناظر میں زیادہ بچے پیدا کرنے والوں کو عوامی عہدوں سے نااہل کرنے یا سزا دینے والے قوانین کا جواز اب ختم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔

سماعت کے دوران بنچ نے مشاہدہ کیا کہ دو دہائیاں قبل آبادی میں بے تحاشہ اضافے کے خوف کے تحت ایسے ضوابط بنائے گئے تھے، مگر اب زمینی صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آج کے دور میں تین بچے پیدا کرنا کوئی عام رجحان نہیں رہا بلکہ زیادہ تر خاندان صرف ایک بچے تک محدود ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کے بیشتر خطوں میں آبادی کی اوسط شرحِ افزائش تشویشناک حد تک نیچے چلی گئی ہے۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ جب متعدد ریاستوں میں نئی نسل کی پیدائش کی شرح پہلے ہی متبادل سطح سے کم ہو چکی ہو تو پھر آبادی پر جبری قدغن لگانے والی پالیسیوں کو قانونی تحفظ دینے کا کیا فائدہ ہے۔

اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بنچ نے نشاندہی کی کہ سال 2003 میں بھارت کی مجموعی شرحِ افزائشِ نسل (ٹی ایف آر) تین تھی جو اب گر کر 1.9 پر آ چکی ہے، جبکہ آبادی کا موجودہ توازن قائم رکھنے کے لیے درکار متبادل شرح (ری پلیسمنٹ ریٹ) کم از کم 2.1 ہونی چاہیے۔ عدالت نے متنبہ کیا کہ گرچہ فی الوقت آبادی میں فوری گراوٹ واضح محسوس نہیں ہو رہی، مگر متبادل شرح سے کم پیدائش کے منفی اثرات آنے والی چند دہائیوں میں شدت سے سامنے آئیں گے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ملک جاپان اور کئی مغربی ممالک جیسی سنگین صورتحال کا شکار ہو سکتا ہے، جہاں عمر رسیدہ افراد کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور معیشت کو سنبھالنے کے لیے کام کرنے والی نوجوان افرادی قوت کا فقدان پیدا ہو گیا ہے۔

یہ قانونی چیلنج مہاراشٹر کی سابق سرپنچ منگلا بھیم راؤ انگلے کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جنہوں نے بامبے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا جس میں مہاراشٹر ولیج پنچایت ایکٹ 1959 کی شق کے تحت دو سے زیادہ بچے ہونے کی بنیاد پر ان کی نااہلی کو برقرار رکھا گیا تھا۔ موجودہ ضابطوں کے مطابق ایسے والدین نہ تو پنچایت کا الیکشن لڑ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی منتخب عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے 2003 کے تاریخی مقدمے ‘جاوید بنام ریاست ہریانہ’ اور 2004 کے ‘رام جی لال جاٹ بنام راجستھان’ میں ریاستوں کی اس نوعیت کی پالیسیوں کو آئینی طور پر درست تسلیم کیا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ کے اس تازہ رخ کے بعد اب تین ججوں کی بنچ ان تمام سابقہ فیصلوں اور قانون سازی کے دائرہ کار کا از سر نو جائزہ لے گی۔ قانونی و سماجی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مقدمہ ملک کے خاندانی قوانین، جمہوری نمائندگی کے حقوق اور مستقبل کی معاشی و ڈیموگرافک سمت کے تعین میں انتہائی دور رس اثرات کا حامل ثابت ہوگا۔

شیئر کریں۔