مرکزی حکومت نے دہلی ہائی کورٹ میں ایک تفصیلی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وسطی دہلی کے کرشی بھون احاطے میں واقع تاریخی ‘قدیمی مسجد’ کو ہٹانا سینٹرل وسٹا ری ڈیولپمنٹ ماسٹر پلان کی تکمیل کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ حکومت کے مطابق، کامن سینٹرل سیکرٹریٹ کی عمارت نمبر چار اور پانچ کی تعمیر کے لیے اس پلاٹ کی ضرورت ہے، جس کی زد میں کرشی بھون اور شاستری بھون کے علاقے آ رہے ہیں۔ یہ رپورٹ لینڈ اینڈ ڈیولپمنٹ آفس کی جانب سے دہلی ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں جمع کرائی گئی ہے، جہاں مسجد کی انتظامی کمیٹی نے اس تاریخی عبادت گاہ کے تحفظ کے لیے رجوع کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل چیتن شرما اور اسٹینڈنگ کونسل نشانت گوتم کے ذریعے پیش کردہ مؤقف میں آٹھ نومبر 1940 کے ایک پرانے معاہدے کا حوالہ دیا گیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ زمین وزارت ہاؤسنگ اینڈ اربن افیئرز کی ملکیت ہے اور 1940 میں مسجد انتظامیہ کو محض مشروط اجازت نامے کے تحت مذہبی مقاصد کے لیے دی گئی تھی، جس سے ان کے پاس کوئی قانونی یا مالکانہ حقوق پیدا نہیں ہوتے۔ حکومت نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ مرکزی انتظامیہ کے دفاتر پر مشتمل احاطے ایک سیکولر نوعیت رکھتے ہیں، لہٰذا کسی سرکاری کمپلیکس کے اندر کسی مستقل مذہبی ڈھانچے کو برقرار رکھنا انتظامی و شہری ماسٹر پلان سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسٹیٹس رپورٹ میں نمازیوں کے متبادل انتظامات کا ذکر کرتے ہوئے نشاندہی کی گئی ہے کہ انڈیا گیٹ کے قریب واقع تاریخی شاہی مسجد ضابطہ گنج کرشی بھون سے بمشکل دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہے، جو مکمل فعال ہے اور نمازی وہاں عبادات انجام دے سکتے ہیں۔ حکومت نے آئین ہند کی دفعہ 25 کے تحت مذہبی آزادی کی مبینہ خلاف ورزی کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئینی شق کسی مخصوص سرکاری اراضی پر عبادت گاہ قائم رکھنے کا غیر مشروط قانونی حق فراہم نہیں کرتی۔
دوسری جانب، مسجد کی انتظامی کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل سلمان خورشید، عباد مشتاق اور فضیل احمد ایوبی نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ مسجد دہائیوں سے قائم ایک تاریخی عبادت گاہ ہے، جہاں دہلی کے ملازمین اور عام شہری باقاعدگی سے نماز ادا کرتے آئے ہیں۔ قانونی ماہرین اور اقلیتی حقوق کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ تاریخی مقامات اور دہائیوں پرانی مساجد کو شہری ترقیاتی منصوبوں کے نام پر یکطرفہ طور پر ہٹانا اقلیتوں کے مذہبی ورثے اور عبادات کے تحفظ سے متعلق گہرے خدشات کو جنم دیتا ہے، لہٰذا اس معاملے میں تاریخی حیثیت اور مذہبی حساسیت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
عدالت عالیہ میں داخل کی گئی اس اسٹیٹس رپورٹ کے بعد اب سب کی نظریں ہائی کورٹ کے آئندہ فیصلے پر مرکوز ہیں.




