سپریم کورٹ آف انڈیا نے نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور پولیس کے کریک ڈاؤن سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن کسی بھی عوامی مقام یا سڑک پر غیر معینہ مدت کے لیے مستقل قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے سماعت کے دوران واضح الفاظ میں نشان دہی کی کہ کسانوں، صحافیوں اور عام شہریوں سمیت ہر طبقے کو اپنی آواز بلند کرنے کی آئینی آزادی ہے، مگر اس کے لیے ایک معقول وقت اور ضابطہ ہونا چاہیے تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ آمد و رفت میں خلل نہ پڑے۔
عدالت میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جنتر منتر اصولی طور پر ایک عوامی سڑک ہے، جہاں محض ایک روز کے احتجاج کی اجازت دی گئی تھی مگر مظاہرین نے سترہ دنوں تک وہاں ڈیرے ڈالے رکھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین نے سیکیورٹی خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث پولیس کو امن و امان قائم رکھنے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ اس پر عدالت نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی اجازت دینے یا اسے منسوخ کرنے کا عمل من مانا نہیں ہو سکتا بلکہ حکومتی احکامات میں وجوہات کا تحریری اور واضح اندراج لازمی ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران شہریوں کے حقوق اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر وکلاء کے درمیان شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے پولیس کی جانب سے تقریباً سات ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے، میٹرو اسٹیشنز اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کو جمہوریت اور شہری آزادیوں پر سنگین حملہ قرار دیا۔ اس کے برعکس سالیسٹر جنرل نے مؤقف پیش کیا کہ شہریوں کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ نظم و نسق بحال رکھنے کے لیے صرف جائے وقوعہ سے ہٹایا گیا تھا۔ دوسری جانب وکیل پرشانت بھوشن نے احتجاجی مقامات پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی ڈیجیٹل اور سی سی ٹی وی نگرانی کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے، جس پر بینچ نے ریمارکس دیے کہ کھلے عوامی مقامات پر کیمرے کی موجودگی بذات خود پرائیویسی کے حق کی مکمل خلاف ورزی نہیں کہلائی جا سکتی بشرطیکہ ریاستی اقدامات متوازن ہوں۔
کاروباری تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت سے مظاہروں پر عارضی پابندی کی استدعا کی اور دلیل دی کہ دارالحکومت کے تجارتی مراکز اور ملحقہ آبادیوں کا معاشی نظام مسلسل احتجاج کی وجہ سے بری طرح مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ معاملے کے جامع فیصلے کے لیے احتجاج منظم کرنے والی تنظیموں کو بھی اس مقدمے میں باضابطہ فریق بنایا جائے تاکہ ان کا مؤقف بھی ریکارڈ پر لایا جا سکے۔سپریم کورٹ آف انڈیا نے نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور پولیس کے کریک ڈاؤن سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے، لیکن کسی بھی عوامی مقام یا سڑک پر غیر معینہ مدت کے لیے مستقل قبضہ نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس کی سربراہی والی بینچ نے سماعت کے دوران واضح الفاظ میں نشان دہی کی کہ کسانوں، صحافیوں اور عام شہریوں سمیت ہر طبقے کو اپنی آواز بلند کرنے کی آئینی آزادی ہے، مگر اس کے لیے ایک معقول وقت اور ضابطہ ہونا چاہیے تاکہ عام شہریوں کی روزمرہ آمد و رفت میں خلل نہ پڑے۔
عدالت میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے حکومت کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جنتر منتر اصولی طور پر ایک عوامی سڑک ہے، جہاں محض ایک روز کے احتجاج کی اجازت دی گئی تھی مگر مظاہرین نے سترہ دنوں تک وہاں ڈیرے ڈالے رکھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مظاہرین نے سیکیورٹی خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی، جس کے باعث پولیس کو امن و امان قائم رکھنے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔ اس پر عدالت نے انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج کی اجازت دینے یا اسے منسوخ کرنے کا عمل من مانا نہیں ہو سکتا بلکہ حکومتی احکامات میں وجوہات کا تحریری اور واضح اندراج لازمی ہونا چاہیے۔
سماعت کے دوران شہریوں کے حقوق اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر وکلاء کے درمیان شدید بحث دیکھنے میں آئی۔ سینئر وکیل مینکا گروسوامی نے پولیس کی جانب سے تقریباً سات ہزار افراد کو حراست میں لیے جانے، میٹرو اسٹیشنز اور انٹرنیٹ سروسز کی بندش کو جمہوریت اور شہری آزادیوں پر سنگین حملہ قرار دیا۔ اس کے برعکس سالیسٹر جنرل نے مؤقف پیش کیا کہ شہریوں کو حراست میں نہیں لیا گیا بلکہ نظم و نسق بحال رکھنے کے لیے صرف جائے وقوعہ سے ہٹایا گیا تھا۔ دوسری جانب وکیل پرشانت بھوشن نے احتجاجی مقامات پر پولیس کی جانب سے کی جانے والی ڈیجیٹل اور سی سی ٹی وی نگرانی کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے، جس پر بینچ نے ریمارکس دیے کہ کھلے عوامی مقامات پر کیمرے کی موجودگی بذات خود پرائیویسی کے حق کی مکمل خلاف ورزی نہیں کہلائی جا سکتی بشرطیکہ ریاستی اقدامات متوازن ہوں۔
کاروباری تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے سینئر وکیل مکل روہتگی نے عدالت سے مظاہروں پر عارضی پابندی کی استدعا کی اور دلیل دی کہ دارالحکومت کے تجارتی مراکز اور ملحقہ آبادیوں کا معاشی نظام مسلسل احتجاج کی وجہ سے بری طرح مفلوج ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی سرگرمیاں متاثر ہونے سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار داؤ پر لگا ہوا ہے۔ سپریم کورٹ نے تمام دلائل کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ معاملے کے جامع فیصلے کے لیے احتجاج منظم کرنے والی تنظیموں کو بھی اس مقدمے میں باضابطہ فریق بنایا جائے تاکہ ان کا مؤقف بھی ریکارڈ پر لایا جا سکے۔



