جموں و کشمیر کے دارالحکومت سری نگر سے لوک سبھا کے منتخب رکن آغا سید روح اللہ مہدی نے نیشنل کانفرنس کی بنیادی رکنیت اور پارلیمنٹ کی نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کر کے وادی کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے بہشت زہرا پارک میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے نیشنل کانفرنس کے ساتھ اپنا ربع صدی پر محیط سیاسی تعلق باضابطہ طور پر منقطع کرنے کا اعلان کیا۔ ہزاروں حامیوں کی موجودگی میں انہوں نے استعفیٰ نامے پر دستخط کیے اور اسے سال 2010 کے احتجاج کے دوران جاں بحق ہونے والے نوجوان طفیل متو کے والد محمد اشرف متو کے سپرد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اسے پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ تک پہنچا دیں۔
آغا روح اللہ مہدی نے اپنے والد آغا سید مہدی کی 26ویں برسی کے دن یہ انتہائی سیاسی قدم اٹھایا۔ پبلک جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور پارٹی کی موجودہ قیادت پر سخت الزامات عائد کیے اور مؤقف اپنایا کہ ریاستی اقتدار سنبھالنے کے دو سال بعد این سی قیادت اپنے بنیادی سیاسی منشور، اصولوں اور عوام سے کیے گئے وعدوں سے مکمل انحراف کر چکی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دفعہ 370 کی بحالی، کشمیری عوام کے وقار اور جمہوری حقوق کی بازیابی کے بجائے نئی دہلی میں مرکز کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی میں کشمیری شالیں تحفے میں پیش کرنے کے بجائے ریاستی اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں کے نفاذ اور تاریخی حقوق کی بات ہونی چاہیے تھی۔
اپنے سخت خطاب میں مستعفی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ اصولوں کی بنیاد پر عوام کے درمیان آئے ہیں اور کسی عہدے یا پارلیمانی نشست کے لیے عوامی حقوق پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے گئے وعدے مقدس امانت تھے، جنہیں اقتدار ملتے ہی پس پشت ڈال دیا گیا۔ آغا روح اللہ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ ان کا مقصد محض اقتدار کی سیاست نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے تمام طبقات کے تشخص، آئینی و جمہوری حقوق اور حقیقی تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہے، جس کے لیے وہ جلد ہی نئی سیاسی سمت اور لائحہ عمل سامنے لائیں گے۔
دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق نیشنل جنرل سیکریٹری رام مادھو نے جموں میں ایک پریس کانفرنس کے دوران آغا روح اللہ کے حوالے سے ایک بیان دے کر معاملے کو نئی سیاسی بحث کا مرکز بنا دیا، تاہم عوامی حلقوں میں اسے سیاسی صف بندیوں کو الجھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس پر جلد ہی خود آغا روح اللہ کی جانب سے پوزیشن واضح کیے جانے کی توقع ہے۔



