مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے پیر کے روز حیدرآباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے تحت ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے تیرہ کروڑ ناموں میں سے تین کروڑ ووٹرز دراصل غیر قانونی بنگلہ دیشی درانداز تھے۔ وزیر داخلہ نے تلنگانہ کے دارالحکومت میں منعقدہ ریلی اور پدیاترا کے دوران انتخابی فہرستوں کی تطہیر کے عمل کا بھرپور دفاع کیا اور کانگریس سمیت دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
حیدرآباد کے جلسے میں اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ مجموعی طور پر خارج کیے گئے تیرہ کروڑ اندراجات میں سے سوا چھ کروڑ افراد وہ تھے جو اپنی رہائش گاہیں تبدیل کر چکے تھے، تقریباً تین کروڑ افراد انتقال کر چکے تھے، جبکہ ایک کروڑ کے قریب نام دہری فہرستوں میں شامل تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ باقی بچے تین کروڑ ایسے اندراجات تھے جن کا وجود ہی نہیں تھا اور وہ سب درانداز تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے جعلی ناموں کو انتخابی عمل کا حصہ رہنے دیا جانا چاہیے، ساتھ ہی انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی پر الزام لگایا کہ وہ مبینہ بوگس ووٹنگ کے بل بوتے پر انتخابات پر قابض ہونے کے لیے اس اصلاحی عمل کی مخالفت کر رہے ہیں۔
حزب اختلاف کے اتحاد انڈیا بلاک نے اس بڑے پیمانے پر انتخابی فہرستوں سے ناموں کے اخراج پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے دہلی کے رام لیلا میدان میں احتجاج کے بعد چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر سنگین بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ حزب اختلاف کا مؤقف ہے کہ اس مہم کی آڑ میں بڑی تعداد میں اصلی اور قانونی ووٹرز، بالخصوص اقلیتوں اور کمزور طبقات کو منظم انداز میں ان کے بنیادی جمہوری اور آئینی حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف انڈیا نے مئی کے مہینے میں اس مشق کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کو شہریوں کی قومیت یا شہریت طے کرنے کا کوئی آئینی اختیار حاصل نہیں ہے۔
اس قانونی وضاحت کے باوجود زمینی سطح پر اقلیتی اور پسماندہ آبادیوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ متعدد ریاستوں میں ووٹر لسٹ سے نام کٹنے کی بنیاد پر عام شہریوں کے راشن کارڈ منسوخ کیے جانے اور پاسپورٹ کی تجدید میں رکاوٹیں ڈالے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سول رائٹس تنظیموں اور قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شہریت کے تعین کے قانونی عمل کے بغیر کروڑوں شہریوں کو یک جنبشِ قلم مشکوک یا غیر ملکی قرار دینا جمہوری اقدار اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہے۔
امت شاہ نے تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اعلان کیا کہ حکومت ہر غیر قانونی فرد کو ووٹر لسٹ سے نکالنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ ملک کے انیس صوبوں میں اس عمل کے اگلے مراحل کے دوران سیاسی گرما گرمی مزید بڑھنے کا قوی امکان ہے، جہاں ایک طرف حکمران جماعت اسے انتخابی شفافیت کا نام دے رہی ہے تو دوسری جانب اپوزیشن اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے کروڑوں شہریوں کو سیاسی و سماجی سطح پر بے دست و پا کرنے کی دانستہ کوشش قرار دے رہی ہیں۔



