پنجاب کی سیاست میں اس وقت زبردست ہلچل مچ گئی جب عام آدمی پارٹی کے تین برسر اقتدار ارکان اسمبلی کنور وجے پرتاپ سنگھ، ہرمیت سنگھ پٹھانماجرا اور چیتن سنگھ جوراماجرا نے اپنی اسمبلی رکنیت اور بنیادی پارٹی عہدوں سے استعفیٰ دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اس سیاسی پیش رفت پر کانگریس نے سخت ردعمل دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی اور وزیر اعلیٰ بھگونت مان کو آڑے ہاتھوں لیا ہے، جبکہ عآپ نے ان اراکین کے خلاف اسمبلی اسپیکر کے روبرو نااہلی کی کارروائی شروع کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
کانگریس کے سینیئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ پرمود تیواری نے اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی پارٹی ایک ڈوبتی ہوئی کشتی بن چکی ہے جس پر سوار لوگ اب اپنی بقا کے لیے چھلانگ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ بھگونت مان کی انتظامی اہلیت اور کارکردگی پر سوالات کھڑے کرتے ہوئے کہا کہ جس حکومت نے عوام کے بھروسے کو ٹھیس پہنچائی ہو، اس کے ساتھیوں کا ساتھ چھوڑنا لازمی تھا۔ دوسرے کانگریسی رہنما ادت راج نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے اندر بے چینی اور عدم اطمینان گہرا ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں مزید اراکین بھی عآپ کا دامن چھوڑ سکتے ہیں۔ ادت راج نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پنجاب کی منتخب حکومت دراصل دہلی کے رہنماؤں کے اشاروں پر چلائی جا رہی ہے جس سے ریاستی قیادت کے اندر اضطراب پایا جاتا ہے۔
یہ تمام تر سیاسی ہلچل اس وقت شروع ہوئی جب عام آدمی پارٹی نے آئندہ پنجاب اسمبلی انتخابات کے پیش نظر چالیس امیدواروں پر مشتمل اپنی پہلی فہرست جاری کی۔ ٹکٹوں کی تقسیم کے محض چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی ان تین اہم اراکین نے بغاوت کی راہ اختیار کی اور بی جے پی کا پرچم تھام لیا۔ دوسری جانب حکمران جماعت عام آدمی پارٹی نے اندرونی بحران سے نمٹنے کے لیے قانونی اور تنظیمی قدم اٹھانے کا عندیہ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پارٹی قیادت پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں سے رجوع کر کے ان ارکان کی رکنیت منسوخ کرنے اور انسداد دل بدلی قانون کے تحت نااہل قرار دلانے کا مطالبہ کرنے جا رہی ہے۔
ریاست میں پیدا ہونے والے اس نئے سیاسی منظر نامے نے انتخابی میدان کو سرگرم کر دیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے لیے اپنے کیڈر کو متحد رکھنا اور مزید ارکان کو پارٹی چھوڑنے سے روکنا ایک بڑا انتظامی و سیاسی امتحان بن گیا ہے، جبکہ مخالف جماعتیں اس پیش رفت کو بنیاد بنا کر حکمران جماعت کی اندرونی گرفت پر مسلسل سوالات اٹھا رہی ہیں۔




