آندھرا پردیش کے ضلع اننت پور اور اتر پردیش کے شہر متھرا میں پولیس کارروائیوں کے دوران مبینہ طور پر فرار کی کوشش کرنے والے دو الگ الگ سنگین جرائم کے مشتبہ ملزمان پولیس فائرنگ کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ اننت پور میں اسکول کی دسویں جماعت کی طالبہ پر مشینی آرے سے لرزہ خیز حملہ کرنے والے اکیس سالہ نوجوان کو اتوار کے روز پولیس نے تحویل سے فرار ہونے کی مبینہ کوشش پر گولی ماری، جبکہ متھرا میں قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب ملزم سرچ آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہوا۔ دونوں ملزمان کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اننت پور پولیس کے جاری کردہ بیانات کے مطابق، اتوار کی شام ملزم کو اتمکور کے جنگلاتی علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں تفتیشی ٹیم جائے وقوعہ کی ازسرنو تشکیل کے لیے اسے راپتھادو گاؤں لے جا رہی تھی کہ راستے میں ملزم نے مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا اور موقع سے بھاگنے کی کوشش کی۔ ایک پولیس افسر کے دعوے کے مطابق پتھراؤ سے کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے جس پر پولیس نے اپنے دفاع اور ملزم کو فرار سے روکنے کے لیے جوابی فائرنگ کی۔ گولی لگنے سے ملزم شدید زخمی ہوا جسے فوری طبی امداد کے لیے اسپتال لے جایا گیا۔
اس واقعے کا پس منظر انتہائی اندوہناک ہے۔ مذکورہ ملزم نے ہفتے کے روز اسکول کے احاطے میں داخل ہو کر دسویں جماعت کی ایک کمسن طالبہ پر مشینی آرے سے وحشیانہ حملہ کیا تھا۔ طالبہ کو پہلے مقامی اسپتال لے جایا گیا، بعد ازاں تشویشناک حالت کے پیش نظر اسے ریاست کرناٹک کے شہر بنگلورو کے ایک نجی اسپتال کے آئی سی یو منتقل کیا گیا۔ ریاست کے وزیر تعلیم نارا لوکیش نے اس ہولناک حملے کی تصدیق کی ہے۔ بچی کو بچانے کی کوشش کرنے والی اس کی ایک ہم جماعت طالبہ بھی اس حملے میں زخمی ہوئی تھی۔
دوسری جانب اتر پردیش کے متھرا ضلع میں پالی کھیرا-مہولی روڈ پر پولیس سات افراد کی گرفتاری کے لیے تلاشی مہم چلا رہی تھی جو قتل کے ایک مقدمے میں مطلوب تھے۔ متھرا کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیو کمار سنگھ کے بیان کے مطابق، بغیر نمبر پلیٹ کی ایک گاڑی تیز رفتاری سے مہولی گاؤں کی سمت سے نمودار ہوئی۔ پولیس کی جانب سے رکنے کے اشارے کو نظر انداز کرتے ہوئے مشتبہ شخص نے گاڑی بھگانے کی کوشش کی اور بعد ازاں نیچے اتر کر پولیس ٹیم پر براہ راست فائرنگ کر دی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ دفاعی فائرنگ کے نتیجے میں وہ مشتبہ شخص گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا، جسے فوری طور پر زیر حراست لے کر علاج کے لیے اسپتال روانہ کر دیا گیا۔
پولیس حراست یا تفتیشی کارروائیوں کے دوران ملزمان کے مبینہ فرار اور اس کے ردعمل میں فائرنگ یا انکاؤنٹر کے واقعات قانون کے نفاذ اور شفافیت کے تناظر میں ہمیشہ اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اگرچہ سنگین جرائم کے خلاف فوری اور سخت قانونی کارروائی عوامی سلامتی کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہے، تاہم ملکی قانون اور آئینی اصولوں کے تحت ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لا کر باضابطہ عدالتی ٹرائل کے ذریعے قرار واقعی سزا دلانا ہی قانون کی بالادستی کا ضامن ہے۔
دونوں ریاستوں کی مجاز پولیس انتظامیہ نے تاحال زخمی ملزمان کی طبی صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے اور ابتدائی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اننت پور میں زیر علاج ملزم کے خلاف اقدام قتل، اسکول پر حملے اور پولیس پر حملے کی دفعات کے تحت قانونی عمل آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ متھرا میں قتل کے کیس کے باقی مفرور ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔




