بامبے ہائی کورٹ نے پیر کے روز ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ اوورسیز سٹیزن آف انڈیا کارڈ رکھنے والے افراد کو ملک کے اندر سیاسی یا عوامی مظاہروں میں حصہ لینے کا قانونی و آئینی حق حاصل نہیں ہے۔ چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بالی ووڈ اداکار عمران خان کو ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مظاہرے میں شرکت پر باضابطہ معافی مانگنے کی ہدایت جاری کی۔ عدالت کے اس سخت مؤقف کے بعد اداکار نے بنچ کے سامنے غیر مشروط معافی نامہ پیش کیا اور حلفیہ یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں بطور او سی آئی کارڈ ہولڈر اس قسم کے کسی بھی احتجاجی مظاہرے کا حصہ نہیں بنیں گے۔
عدالت عالیہ نے اداکار کی جانب سے معافی اور حلف نامہ داخل کیے جانے کے بعد فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کی جانب سے جاری کردہ ’لیو انڈیا نوٹس‘ پر عبوری روک کے حکم میں توسیع کر دی۔ ایف آر آر او نے پندرہ اکتوبر کو امریکی شہریت کے حامل اداکار عمران خان کو اٹھائیس اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا تحریری حکم نامہ دیا تھا، جس کی بنیادی وجہ دس اکتوبر کو ممبئی کے تاریخی اگست کرانتی میدان میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ہونے والے احتجاج میں ان کی موجودگی بتائی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی جانب سے عبوری ریلیف ملنے کے بعد عمران خان کے خلاف فوری ملک بدری یا حراست کا خدشہ فی الوقت ٹل گیا ہے اور اس معاملے کی باضابطہ آئندہ سماعت سات دسمبر کو مقرر کی گئی ہے۔
سماعت کے دوران بنچ نے اداکار کے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ایک غیر ملکی شہری اور معروف شخصیت ہونے کے ناطے وہ ایسے مظاہرے میں کیوں شریک ہوئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی بھارتی شہری امریکہ یا کسی دوسرے ملک میں جا کر وہاں کے نظام کے خلاف مظاہرہ کرے تو متعلقہ ملک کا قانون اسے فوری طور پر واپس بھیج دیتا ہے۔ اس سے قبل عمران خان کے وکیل نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ او سی آئی کارڈ ہولڈرز کے قواعد میں پرامن احتجاج پر واضح پابندی عائد نہیں ہے۔ دوسری جانب دس اکتوبر کو پولیس حراست کے وقت اداکار کا کہنا تھا کہ وہ ایک شہری اور ممبئی کے عام رہائشی کی حیثیت سے وہاں موجود تھے اور ان کا مقصد صرف آزادیٔ اظہار اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کو دیکھنا تھا، جبکہ ان کا تعلق کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہے۔
اوورسیز سٹیزن آف انڈیا ایک ایسا امیگریشن اسٹیٹس ہے جو بھارتی نژاد غیر ملکی شہریوں کو ملک میں مستقل قیام، ملازمت اور کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دیتا ہے، مگر یہ حیثیت مکمل شہریت کے برابر تصور نہیں کی جاتی۔ بھارتی آئین کی رو سے بنیادی جمہوری حقوق، جن میں ووٹ ڈالنے، عوامی عہدہ سنبھالنے اور آئین کی دفعہ 19 کے تحت حاصل پرامن احتجاج کے حقوق شامل ہیں، صرف اور صرف بھارتی شہریوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ایف آر آر او کی جانب سے جاری ہونے والا ایگزٹ نوٹس ان غیر ملکیوں کے خلاف ایک سنگین انتظامی اقدام ہوتا ہے جس کی خلاف ورزی حراست، بلیک لسٹنگ یا فوری ملک بدری پر منتج ہو سکتی ہے۔
عدالت کا یہ فیصلہ ملک میں موجود لاکھوں غیر ملکی شہریوں اور او سی آئی کارڈ ہولڈرز کے قانونی دائرہ کار کے تعین میں ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ جہاں ایک طرف جمہوری معاشروں میں اظہارِ رائے کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے، وہیں قومی قوانین کے تحت ملکی خودمختاری، امن عامہ اور شہریت کی حدود کا احترام بھی لازمی قرار پاتا ہے۔ اس کیس سے یہ واضح پیغام گیا ہے کہ سیاسی و انتظامی امور پر عوامی دباؤ یا احتجاج کے آئینی حقوق کس طرح شہریت کے دائرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اب سب کی نظریں سات دسمبر کی حتمی سماعت پر ہیں جہاں عدالت او سی آئی ضوابط اور فارنرز ایکٹ کے تحت اس قانونی گنجائش پر جامع فیصلہ صادر کرے گی۔




