امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر کھلی فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی امریکی نشانے پر ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر محض دس منٹ کے قلیل وقت میں تباہ کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین پس پردہ یا بالواسطہ مذاکراتی عمل جاری ہے اور ایران بھی کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی ظاہر کر رہا ہے، لیکن امریکہ اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔
امریکی صدر نے تہران کے سفارتی طرزِعمل پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔ ان کا الزام تھا کہ ماضی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ ایرانی قیادت پہلے معاہدہ طے کرتی ہے اور بعد میں اپنے طے شدہ وعدوں اور شرائط سے پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مطابق واشنگٹن اب محض باتوں پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اصل امتحان یہ ہوگا کہ تہران واقعی کسی ٹھوس، ناقابلِ تنسیخ اور دیرپا معاہدے کے لیے تیار ہے یا وہ محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
ایران پر ممکنہ دوبارہ حملوں کے خدشات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن نے اپنے ماضی کے اقدامات کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام، بحریہ، فضائیہ اور کئی اسٹریٹجک تنصیبات کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا اصرار تھا کہ تہران کا دفاعی اور جوہری ڈھانچہ اب اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کسی بڑے امریکی دباؤ کا دیرپا مقابلہ کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ایٹمی شعبے سے جڑے چند مخصوص مراکز کو ہدف بنانا امریکی افواج کے لیے محض منٹوں کی کارروائی ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے قطر سمیت دیگر ثالث ممالک کی سطح پر طویل اور باریک بین سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ خود تہران کی جانب سے حالیہ دنوں میں یہ اشارے دیے گئے تھے کہ واشنگٹن کے مکتوبات کا لہجہ نسبتاً نرم اور لچکدار رہا ہے، جس سے کسی نئے سفارتی فریم ورک کی امیدیں پیدا ہوئی تھیں۔ تاہم ٹرمپ کے اس جارحانہ اور براہِ راست فوجی دھمکیوں پر مبنی بیان نے دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکراتی کوششوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی اور خارجہ امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے بیک وقت مذاکرات کی تائید اور دس منٹ میں تباہی کی دھمکی دراصل زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی روایتی امریکی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ اس نوعیت کے بیانات سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے ماحول میں جہاں خلیجی ریاستیں استحکام کی متلاشی ہیں اور کسی بھی نئی کشیدگی کے اثرات پوری عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔




