مغربی بنگال : بنگالی زبان بولنے پر اعتراض، ٹول ملازم کے متنازع رویے پر عوامی غصہ

مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں قومی شاہراہ 12 پر واقع شیب پور ٹول پلازہ پر ایک بھارتی مسلم ٹرک ڈرائیور کو محض مادری زبان بولنے پر مبینہ طور پر ’بنگلہ دیشی‘ قرار دیے جانے کا ناخوشگوار واقعہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈرائیور نے ٹول ٹیکس کی ادائیگی کے دوران کاؤنٹر پر موجود ملازم سے بنگالی زبان میں گفتگو کرنے کی گزارش کی۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر عام ہونے کے بعد لسانی تعصب اور شہریت کی بنیاد پر تفریق کے خلاف شدید بحث شروع ہو گئی ہے۔

موصولہ تفصیلات کے مطابق، نارائن پور کا رہائشی رفیق الاسلام خان کیلے سے لدا ٹرک لے کر کریم پور سے سلی گوڑی کی جانب جا رہا تھا۔ جب گاڑی شیب پور ٹول پلازہ پہنچی تو اس نے وہاں تعینات اہلکار سے بنگالی زبان میں بات کی۔ الزام ہے کہ ملازم نے مقامی زبان کا جواب شائستگی سے دینے کے بجائے جارحانہ لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ کیا تم بھارت سے باہر کے ہو، کیا تم بنگلہ دیشی ہو کہ میں تم سے بنگلہ میں بات کروں۔

اس توہین آمیز تبصرے پر ٹرک ڈرائیور نے سخت احتجاج کیا۔ رفیق الاسلام نے ہندی میں پلٹ کر جواب دیتے ہوئے سوال کیا کہ مغربی بنگال کی سرزمین پر بنگالی بولنے پر اعتراض کیوں کیا جا رہا ہے اور اسے غیر ملکی کیوں قرار دیا گیا۔ ڈرائیور کا موقف تھا کہ گاڑی کو تقریباً آدھے گھنٹے سے روکے رکھا گیا تھا، اس لیے اس نے غیر ضروری تاخیر اور بلاوجہ کی تضحیک کے خلاف ڈٹ کر موقف اختیار کیا اور غیر ملکی ہونے کے الزام کو یکسر مسترد کر دیا۔

سرحدی اضلاع اور قومی شاہراہوں پر بنگالی بولنے والے مسلم شہریوں کو شک کی نگاہ سے دیکھنے اور ان پر فوری طور پر درانداز یا بنگلہ دیشی کا لیبل چسپاں کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اقلیتی حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بھارت کے آئین نے ہر شہری کو ملک کے کسی بھی حصے میں اپنی زبان بولنے، روزگار کمانے اور وقار کے ساتھ سفر کرنے کا بنیادی حق دیا ہے، لیکن روزمرہ عوامی مقامات پر اس نوعیت کی لسانی پروفائلنگ شہریوں کے بنیادی حقوق کو مجروح کرتی ہے۔

عوامی حلقوں اور ٹرانسپورٹ یونینز نے ٹول پلازہ پر پیش آنے والے اس واقعے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار ملازمین کی تربیت اور مسافروں کے ساتھ شائستہ برتاؤ کو لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ شاہراہوں پر خدمات فراہم کرنے والے اداروں میں مقامی زبانوں کی تفہیم اور ملازمین کا بااخلاق ہونا ضروری ہے تاکہ عوامی تحفظ اور قومی یکجہتی کو نقصان نہ پہنچے۔

مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ٹول آپریٹنگ ایجنسی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس متنازع رویے کی جانچ کر کے مناسب اقدامات کرے تاکہ شاہراہوں پر سفر کرنے والے محنت کش ڈرائیوروں کو اپنی ہی ریاست میں بے جا ہراسانی اور شناخت کے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیئر کریں۔