مہاراشٹر کے دارالحکومت ممبئی کے مضافاتی علاقے مالاڈ میں واقع معروف اناربٹ مال میں نمازیوں کے لیے مختص عبادت گاہ اس وقت شدید تنازع کا مرکز بن گئی جب چند ہندوتوا تنظیموں نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا। موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس احتجاج اور دباؤ کے بعد مال انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ نماز گاہ کو بند کر دیا گیا، جبکہ سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں اس جگہ کو مسمار حالت میں دکھایا گیا ہے۔
اس تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب سوشل میڈیا پر حجاب پہنے دو کم عمر بچیوں کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہوئی۔ ویڈیو میں وہ مال میں موجود نماز گاہ کا تعارف کرواتے ہوئے بتا رہی تھیں کہ شاپنگ کے دوران نماز قضا نہ ہو اس لیے یہاں مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ جگہ اور وضو کا باقاعدہ انتظام موجود ہے۔ اس ویڈیو کے عام ہوتے ہی دائیں بازو کے عناصر اور تنظیموں نے اسے بنیاد بنا کر مہم شروع کر دی۔
سکل ہندو سماج نامی تنظیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ تجارتی مراکز میں اس طرح کی جگہیں فراہم کرنا ایک خاص سمت کی عکاسی کرتا ہے۔ تنظیم کے ارکان نے مال کے احاطے میں پہنچ کر احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ اس جگہ کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اس مظاہرے کے اگلے روز، اکتیس اکتوبر کو اسی پلیٹ فارم پر ایک اور ویڈیو جاری کی گئی جس میں مبینہ طور پر اس کمرے کی ٹائلیں اکھڑی ہوئی اور جگہ کو توڑے جانے کے مناظر دکھائے گئے۔
تجارتی اور عوامی مراکز میں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے پرسکون عبادتی گوشے یا پریئر رومز فراہم کرنا بین الاقوامی سطح اور بھارت کے کئی بڑے ہوائی اڈوں اور مالز میں ایک معمول کی سہولت سمجھا جاتا ہے، تاکہ گاہک اپنی ذاتی عبادات ادا کر سکیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں ایسی پرامن سہولیات کو متنازع بنا کر عوامی مقامات پر مذہبی آزادی اور رواداری کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دستیاب رپورٹس کے مطابق اس واقعے کے بعد مال میں سکیورٹی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ مال انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے مسماری اور قانونی کارروائی سے متعلق باضابطہ تفصیلی بیان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔




