جمعیۃ علماء ہند (مولانا محمود مدنی گروپ) کی مجلس منتظمہ کے سالانہ اجلاس میں ملک بھر میں مساجد، مدارس، عیدگاہوں اور مزارات کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر کی جانے والی بلڈوزر کارروائیوں اور انہدامی مہم پر فوری روک لگانے کا پرزور مطالبہ کیا گیا ہے۔ ہریانہ کے ضلع نوح میں واقع پپاکہ، سہسولا پٹی کے مقام پر منعقدہ اس دو روزہ اہم تنظیمی اجلاس میں ملک بھر سے تقریباً دو ہزار ارکان، سرکردہ علماء اور دانشوران شریک ہوئے۔ صدارت جمعیۃ کے قومی صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کی، جس کے دوران اقلیتوں کے آئینی حقوق، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں کے تحفظ پر تفصیلی غوروخوض کے بعد تین بنیادی قراردادیں اتفاق رائے سے منظور کی گئیں۔
پہلی قرارداد میں اقلیتی تعلیمی اداروں اور مدارس کو تسلیم شدگی، مالی جانچ اور بے بنیاد پروپیگنڈے کے ذریعے ہراساں کیے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تنظیم نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر زور دیا کہ آئین ہند کی دفعہ 29 اور 30 کے تحت حاصل اقلیتی تعلیمی خود مختاری کا احترام کیا جائے اور ان کے خلاف یکطرفہ کارروائیاں بند کی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی جمعیۃ نے مدارس کے منتظمین کو باضابطہ مشورہ دیا کہ وہ اراضی کی ملکیت، تعمیراتی نقشوں، طلبہ کے تصدیقی ریکارڈ اور مالیاتی حسابات کے آڈٹ کو مکمل شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق مرتب رکھیں تاکہ کسی بھی تکنیکی خامی کا غلط فائدہ نہ اٹھایا جا سکے۔
دوسری قرارداد میں مساجد اور اسلامی تاریخی مقامات کے تحفظ کا تفصیلی احاطہ کیا گیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ مساجد اور درگاہیں مسلمانوں کے مذہبی تشخص اور آئین ہند کی دفعہ 25 اور 26 کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق کا مظہر ہیں۔ قرارداد میں ’پلیسز آف ورشپ (اسپیشل پروویژنز) ایکٹ 1991‘ کی سختی سے پابندی پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلوں میں اس قانون کو آئین کے سیکولر ڈھانچے کا ستون قرار دیا ہے۔ نچلی عدالتوں کی جانب سے تاریخی شاہی جامع مسجد سنبھل سمیت دیگر عبادت گاہوں کے سروے کے احکامات پر تشویش جتاتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے اپیل کی گئی کہ وہ بارہ دسمبر 2024 کے عبوری احکامات کی پاسداری کو یقینی بنائے۔ نیز بلدیاتی، ریونیو اور ڈیولپمنٹ اتھارٹیز کی جانب سے من مانی انہدامی کارروائیوں کے بجائے باقاعدہ سماعت اور قانونی طریقہ کار کی پابندی لازم قرار دی جائے۔
تیسری قرارداد میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے اس قانون کو کثیر مذہبی اور متنوع سماج کے لیے غیر منصفانہ اور بنیادی مذہبی حقوق پر قدغن قرار دیا گیا۔ تنظیم نے واضح کیا کہ خاندانی اور پرسنل لاز میں کسی بھی جبری مداخلت کو قبول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آئین ہر شہری کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کی ضمانت دیتا ہے۔
جمعیۃ کی مجلس منتظمہ نے عملی اقدامات کے تحت فیصلہ کیا کہ ایک مقررہ تاریخ پر ملک کے تمام صوبوں، اضلاع اور تحصیلوں کی اکائیاں انتظامی افسران کو مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کریں گی۔ اس کے علاوہ تنظیم کی تمام ماتحت شاخوں کو خصوصی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مساجد اور درگاہوں کی انتخابی و قانونی کمیٹیوں کے ساتھ مل کر اراضی کے ریونیو ریکارڈ، وقف دستاویزات اور میونسپل ٹیکسوں کی ادائیگی سے متعلق تمام امور کو آئندہ چھ ماہ کے اندر مکمل اور محفوظ بنائیں۔
آئینی اداروں اور انصاف پسند شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی اور اقلیتوں کے وقار کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، تاکہ من مانے انتظامی فیصلوں سے پیدا ہونے والے خوف اور بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔




