بھٹکل (فکروخبر نیوز) اترکنڑا ضلع کے بھٹکل تعلقہ میں واقع شرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں تین دن کی ایک نومولود بچی کی موت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ بچی کے والدین نے ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے پر مبینہ طبی غفلت کا الزام عائد کرتے ہوئے واقعے کی مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد اسپتال میں کچھ دیر کے لیے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق بچی کی والدہ ہیما نے تین دن قبل شرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں نارمل ڈیلیوری کے ذریعے ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ والدہ کے مطابق پیدائش کے بعد بچی کی طبی جانچ کی گئی تھی اور ڈاکٹروں نے اس کی صحت اطمینان بخش قرار دی تھی۔ تاہم بدھ کی صبح اچانک بچی کی طبیعت خراب ہوگئی، جس کے بعد اسے فوری طور پر طبی نگرانی میں لیا گیا۔
والدہ ہیما کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت بگڑنے پر ڈاکٹروں اور نرسوں نے اسے نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ میں منتقل کیا، لیکن تقریباً آدھے گھنٹے بعد اہل خانہ کو بتایا گیا کہ بچی کی موت واقع ہوچکی ہے۔
بچی کی اچانک موت کی اطلاع ملتے ہی والدین اور دیگر اہل خانہ شدید صدمے سے دوچار ہوگئے۔ انہوں نے اسپتال میں فراہم کی گئی طبی سہولتوں اور علاج کے طریقہ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ ڈاکٹروں اور عملے کی لاپرواہی کے نتیجے میں نومولود کی جان گئی۔
بچی کے والد ستیش نائک نے اس واقعے پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بچی کی موت کے اصل اسباب سامنے آنے چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں اور اگر طبی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
دوسری جانب اسپتال کے ذرائع نے طبی غفلت کے الزامات کے درمیان واقعے سے متعلق اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق بدھ کی صبح والدہ نے بچی کو دودھ پلایا تھا اور شبہ ہے کہ دودھ گلے میں اٹکنے کے باعث بچی کو سانس لینے میں دشواری پیش آئی۔
اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صبح تقریباً ساڑھے گیارہ بجے بچی کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر ڈاکٹروں اور طبی عملے نے اس کے علاج کی ہر ممکن کوشش کی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود بچی جانبر نہ ہوسکی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی بھٹکل رورل پولیس اسٹیشن کے اہلکار شرالی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر پہنچے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ پولیس نے بچی کے والدین اور اسپتال کے عملے سے واقعے کی تفصیلات حاصل کیں اور ان کے بیانات بھی درج کیے۔ پولیس کے مطابق اس معاملے میں تحریری شکایت موصول ہونے کے بعد ضابطے کے مطابق ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔




