کمٹہ (فکروخبر نیوز) اترکنڑا ضلع کے گوکرنا کے قریب واقع تدڑی بندرگاہ پر مچھلیاں پکڑنے والی کشتی میں پیش آنے والے المناک حادثے میں تین ماہی گیروں کے جاں بحق ہونے کے بعد کرناٹک حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرتے ہوئے ہر متوفی کے اہل خانہ کو دس لاکھ روپے کا معاوضہ دیا ہے۔ ریاستی وزیر ماہی گیری کے ایس بسونتپا نے بدھ 28 اکتوبر کو جاں بحق ہونے والے ماہی گیروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان سے تعزیت کی اور حکومت کی جانب سے دس دس لاکھ روپے کے امدادی چیک حوالے کیے۔
اس موقع پر وزیر موصوف نے غم زدہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ حکومت ان کے دکھ اور غم میں برابر کی شریک ہے اور اس مشکل وقت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ انہوں نے متوفیوں کے بچوں کی تعلیم میں بھی تعاون فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔
واضح رہے کہ منگل 27 اکتوبر کی شام گوکرنا کے قریب تدڑی ماہی گیری بندرگاہ پر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا تھا، جس میں مچھلیوں کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک کی صفائی کے دوران مبینہ طور پر زہریلی گیس کی زد میں آنے سے تین ماہی گیر ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ دو دیگر افراد شدید متاثر ہوئے تھے۔
جاں بحق ہونے والوں کی شناخت ہینی کاگل کے نوشاد، ہبناگیری کے امین اور ونلی کے امان لنگڑو کے طور پر ہوئی ہے۔ تینوں کا تعلق کمٹہ تعلقہ سے تھا اور وہ ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ تھے۔
اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ ماہی گیر کشتی میں پیش آیا۔ کشتی سمندر سے مچھلیوں کا شکار کرنے کے بعد تدڑی بندرگاہ واپس پہنچی تھی۔ ماہی گیروں نے کشتی سے مچھلیاں اتارنے کے بعد نچلے حصے میں موجود اسٹوریج ٹینک کی صفائی شروع کی۔
بتایا جاتا ہے کہ ٹینک میں موجود مچھلیوں کی باقیات سڑنے کے باعث شدید بدبو پیدا ہوگئی تھی۔ صفائی کے دوران اندر موجود پانچ ماہی گیر اچانک سانس لینے میں دشواری محسوس کرنے لگے اور یکے بعد دیگرے بے ہوش ہوگئے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ساتھی ماہی گیروں اور مقامی افراد نے فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی اور متاثرین کو باہر نکال کر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا، تاہم تین افراد کی جان نہیں بچائی جاسکی۔
حادثے میں متاثر ہونے والے دیگر دو ماہی گیروں کی شناخت 64 سالہ عبدل یعقوب اور 35 سالہ قادر کے طور پر ہوئی ہے۔ عبدل یعقوب کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث انہیں مزید علاج کے لیے منی پال اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ قادر کی حالت میں بہتری کی اطلاع ہے۔
اس درمیان ریاستی وزیر ماہی گیری کے ایس بسونتپا نے اس حادثے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ حادثے کے اصل اسباب معلوم کیے جائیں اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ وزیر موصوف نے خاص طور پر ماہی گیر کشتیوں میں مچھلیوں کی باقیات اور فضلے کی صفائی کے دوران کارکنوں کے تحفظ پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ دیپن ایم این، ضلع کانگریس صدر جی ٹی نائک، ماہی گیر برادری کے ذمہ داران اور دیگر مقامی شخصیات بھی موجود تھیں۔
حادثے کے سلسلے میں گوکرنا پولیس نے معاملہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ ابتدائی طور پر ٹینک میں جمع زہریلی گیس یا آکسیجن کی کمی کو حادثے کا ممکنہ سبب سمجھا جارہا ہے، تاہم اصل وجہ کی حتمی تصدیق تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔
تدڑی بندرگاہ کے اس حادثے نے ساحلی علاقے کی ماہی گیر برادری کو غم زدہ کردیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاں بحق ہونے والے تینوں ماہی گیروں کے خاندانوں کو مجموعی طور پر تیس لاکھ روپے کا معاوضہ فراہم کیا گیا ہے۔
غم زدہ خاندانوں کے لیے یہ مالی امداد اگرچہ ان کے عزیزوں کی جدائی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی، تاہم حکومت نے امدادی رقم کی فراہمی، بچوں کی تعلیم میں تعاون اور حادثے کی تحقیقات کے ذریعے متاثرین کی مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔




