متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے فلائی دبئی کے ہندوستانی پائلٹ کیپٹن اسمت مچھار اور طیارے کے عملے کو غیر معمولی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے اعتراف میں درجہ اول کے باوقار ’آرڈر آف زاید دوم‘ اعزاز سے نوازا ہے۔ دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم نے ایک خصوصی تقریب کے دوران کیپٹن اسمت مچھار اور عملے کے اراکین کو یہ تمغے پیش کیے۔ اس پروقار تقریب میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم سمیت ریاست کی اعلیٰ ترین قیادت موجود تھی۔
دبئی میڈیا آفس کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اماراتی قیادت نے بحرانی کیفیت میں پائلٹ اور عملے کی فوری حکمت عملی، جرات اور فرض شناسی کی زبردست تعریف کی۔ اماراتی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پروازوں اور مسافروں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ترین ترجیحات میں شامل ہے، اور عملے نے جس انداز میں سیکڑوں مسافروں کی جانیں بچائیں وہ ہوابازی کی تاریخ میں پیشہ ورانہ مہارت کی اعلیٰ مثال ہے۔
یہ اعزاز تیس ستمبر کو فلائی دبئی کی پرواز ایف زیڈ 1073 میں فضا کے دوران پیش آنے والے خطرناک واقعے کے بعد تفویض کیا گیا ہے۔ دبئی سے تل ابیب جانے والی اس پرواز کے کاک پٹ میں موجود شریک پائلٹ نے دوران پرواز اچانک کیپٹن اسمت مچھار پر حملہ کر دیا تھا اور طیارے کا مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ اماراتی استغاثہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزم طیارے کو بین گوریون ہوائی اڈے پر تباہ کر کے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پہنچانا چاہتا تھا۔
حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود کیپٹن اسمت مچھار نے ہوش و حواس قائم رکھے اور شدید مزاحمت کرتے ہوئے کاک پٹ کا دروازہ کھولنے میں کامیاب رہے۔ دروازہ کھلتے ہی کیبن کریو کے اراکین اور بیدار مسافروں نے فوری مداخلت کر کے حملہ آور کو دبوچ لیا اور اس پر قابو پا لیا۔ اس کے بعد پرواز کا رخ فوری طور پر سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں طیارے کی بحفاظت ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی اور تمام مسافر معجزاتی طور پر محفوظ رہے۔
واقعے کے فوری بعد شیخ حمدان بن محمد نے اسپتال جا کر زیر علاج کیپٹن اسمت مچھار کی عیادت کی تھی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ان کے بے مثال کردار کی ستائش کی تھی۔




