کرناٹک میں حتمی ووٹرلسٹ جاری ، 99 لاکھ سے زائد نام غائب

کرناٹک کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ریاست کے لیے ووٹر فہرستوں کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے بعد منگل کو حتمی انتخابی فہرست جاری کر دی ہے۔ جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عمل کے نتیجے میں ریاست کے اندر ووٹروں کی مجموعی تعداد میں غیر معمولی طور پر تقریباً ایک کروڑ کی بھاری کمی واقع ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس اقدام نے سیاسی رہنماؤں، شہری حقوق کی تنظیموں اور پسماندہ طبقات کے نمائندوں میں زبردست ہلچل پیدا کر دی ہے، کیونکہ اتنے بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج جمہوری عمل اور شہریوں کے ووٹ کے بنیادی حق کے حوالے سے گہرے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر سے جاری کردہ تفاصیل سے واضح ہوتا ہے کہ خصوصی تفصیلی نظرثانی سے قبل کرناٹک میں رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد پانچ کروڑ 54 لاکھ 32 ہزار 314 تھی۔ اس جانچ پڑتال کے عمل کے اختتام پر جاری کی گئی حتمی فہرست میں یہ تعداد کم ہو کر چار کروڑ 55 لاکھ 11 رہ گئی ہے۔ اس طرح براہ راست 99 لاکھ 32 ہزار 303 ووٹروں کے نام انتخابی ریکارڈ سے نکال دیے گئے ہیں۔ حتمی فہرست کے مطابق اب ریاست میں دو کروڑ 25 لاکھ 40 ہزار 493 مرد ووٹرز، دو کروڑ 29 لاکھ 12 ہزار 355 خواتین ووٹرز اور دو ہزار 841 خواجہ سرا ووٹرز درج ہیں۔ 18 سے 19 سال کی عمر کے نئے نوجوان ووٹرز کی تعداد چھ لاکھ 83 ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔

انتخابی فہرستوں کی تطہیر کا یہ عمل ایسے وقت میں مکمل ہوا ہے جب ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر طریقہ کار، شفافیت اور ناموں کے یکطرفہ اخراج کے الزامات پر سپریم کورٹ میں بھی قانونی چیلنجز زیر سماعت ہیں۔ کرناٹک سمیت مختلف ریاستوں میں انسانی حقوق کے کارکنان اور اقلیتی تنظیمیں پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کرتی رہی ہیں کہ تفصیلی نظرثانی کے پیچیدہ دفتری تقاضوں، دستاویزات کی تصدیق اور بے گھر و نقل مکانی کرنے والی مزدور آبادیوں کے حالات کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے مسلم، دلت اور معاشی طور پر کمزور شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے باآسانی کٹ جاتے ہیں، جس سے وہ غیر محسوس انداز میں حق رائے دہی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بھی ریاست میں ووٹر آبادی کا قریباً پانچواں حصہ یک لخت فہرست سے خارج ہو جانا معمول کی انتظامی کارروائی نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ انتخابی عملے کا عمومی موقف یہ رہتا ہے کہ نقل مکانی، وفات پانے والے افراد اور جعلی یا دوہرے اندراجات کو ہٹایا گیا ہے، لیکن ایک کروڑ ووٹرز کی منسوخی کے عمل میں عوامی سطح پر شفافیت، باقاعدہ نوٹس کی فراہمی اور متاثرہ شہریوں کو شنوائی کا مناسب موقع دیے جانے پر سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ اس نوعیت کے بڑے پیمانے پر اخراج سے ان حلقوں میں سیاسی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جہاں حاشیے پر موجود طبقات کا ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔

شیئر کریں۔