ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کے تحت کیے جانے والے فیصلوں اور اس دوران ووٹر فہرستوں سے بڑے پیمانے پر ناموں کے اخراج کو چیلنج کرنے والی متعدد آئینی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں سماعت ملتوی کر دی گئی ہے، جس کی اگلی سماعت اب 17 نومبر کو متوقع ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل تین رکنی خصوصی بینچ کے روبرو منگل کے روز یہ اہم معاملہ پیش آیا۔ سماعت کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا نے باضابطہ حلف نامہ داخل کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طریقہ کار پر اٹھائے جانے والے تمام اعتراضات کو یکسر مسترد کر دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی فہرستوں کی تطہیر کا سارا عمل طے شدہ قانونی ضوابط اور شفافیت کے تحت انجام پایا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران اپوزیشن رہنماؤں کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل وکاس سنگھ نے بینچ کو آگاہ کیا کہ الیکشن کمیشن کا طویل جوابی حلف نامہ انہیں سماعت سے محض چوبیس گھنٹے قبل موصول ہوا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے اور ان کا مدلل جواب تیار کرنے کے لیے کم از کم دس دن کا وقت درکار ہے۔ عدالت نے عرضی گزاروں کے اس تقاضے کو منصفانہ تسلیم کرتے ہوئے سماعت دیوالی کی تعطیلات کے بعد تک مؤخر کرنے کا حکم صادر کیا اور عرضی گزاروں کو جوابی حلف نامے کے تفصیلی مطالعے کے بعد اپنا موقف داخل کرنے کی ہدایت دی۔
الیکشن کمیشن نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اپنایا ہے کہ خصوصی نظرثانی سے متعلق تمام تر تینوں بنیادی احکامات کمیشن کے تمام اراکین کے باہمی مشورے اور مکمل رضامندی سے نافذ کیے گئے تھے، اس لیے چیف الیکشن کمشنر پر یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کا الزام حقائق کے منافی ہے۔ اگرچہ کمیشن نے اجتماعی سطح پر اپنا دفاع پیش کر دیا ہے، تاہم چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور دونوں الیکشن کمشنران ڈاکٹر ایس ایس سندھو اور ڈاکٹر وویک جوشی کی جانب سے عدالت کے سابقہ نوٹسوں کے تناظر میں انفرادی جوابات آنا تاحال باقی ہیں۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی، کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی اور دیگر سرکردہ اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی مشترکہ و انفرادی درخواستوں میں ووٹر فہرستوں سے اقلیتوں، پسماندہ طبقات اور غریب شہریوں کے ووٹ مبینہ طور پر کاٹنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عرضی گزاروں کا موقف ہے کہ خصوصی گہری نظرثانی کے نام پر شفاف انتخابی عمل اور آزادانہ حق رائے دہی کے آئینی تحفظ پر کاری ضرب لگائی گئی ہے، جس کے باعث کروڑوں مستحق ووٹروں کے سیاسی وجود پر تلوار لٹک گئی ہے۔ عرضیوں میں یہ مطالبہ بھی دہرایا گیا ہے کہ کمیشن کے اندرونی ریکارڈز، حذف کیے گئے ووٹوں کے اعداد و شمار اور فیصلہ سازی کے پورے نظام کی آزادانہ عدالتی جانچ کرائی جائے تاکہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد بحال رہ سکے۔
جمہوری نظام کی بنیاد ووٹروں کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ شرکت پر منحصر ہوتی ہے، اور کسی بھی قسم کی انتظامی غیر شفافیت پسماندہ اور اقلیتی آبادیوں کو اپنے بنیادی ترین جمہوری حق سے محروم کر سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے 17 نومبر کو ہونے والی سماعت انتخابی کمیشن کے اختیارات، ووٹر رجسٹریشن کی غیر جانبداری اور آئندہ قومی انتخابات کی ساکھ کے حوالے سے دور رس آئینی و قانونی اثرات کی حامل ثابت ہوگی۔




