قومی دارالحکومت نئی دہلی میں عوامی احتجاجات اور جمہوری مظاہروں کے خلاف انتظامیہ کی جانب سے ’پیس بانڈ‘ پر دستخط کرانے کے سلسلے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں زبردست بحث چھڑ گئی ہے۔ شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے اس پورے معاملے پر مرکزی حکومت کے طرز عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پارٹی کے ترجمان اخبار ’سامنا‘ کے اداریے میں حکومت کے آمرانہ رویے پر سخت چوٹ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو عوام کے احتجاج اور سوالات کا شور پسند نہیں ہے، بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں شمشان جیسی گہری خاموشی طاری رہے اور صرف اندھ بھکتوں کی تالیاں اور جے جے کار کے نعرے گونجتے رہیں۔ ادھو ٹھاکرے کی جماعت نے واضح کیا کہ ملک کے اندر پرامن اور جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کو اب ایک سنگین جرم کا درجہ دے دیا گیا ہے، جس کی واضح مثال دہلی کے تاریخی اور روایتی احتجاجی مقامات بشمول جنتر منتر پر مسلسل بڑھتی ہوئی پابندیاں ہیں۔
شیوسینا (یو بی ٹی) نے اپنے اداریے میں دہلی کے اندر جمہوری حقوق کے تحفظ کی خاطر جدوجہد کرنے والے نوجوان کارکنوں ابھیجیت دیپکے، سورو داس، آشوتوش رانکا، اجنکیا شندے اور نیہا بورا کے حوصلے کی ستائش کی۔ اداریے میں ان سرگرم کارکنان کے ذریعے پیس بانڈ پر دستخط کرنے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے ناقدین کو بھی آڑے ہاتھوں لیا گیا ہے۔ خاص طور پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو کے موقف پر سخت اعتراض درج کراتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ خود کوئی عملی کردار ادا کیے بغیر گھر بیٹھے مفت کے مشورے بانٹ رہے ہیں۔ کاٹجو کے اس تبصرے پر کہ نوجوانوں نے پیس بانڈ پر دستخط کرکے بڑی بھول کی ہے، شیوسینا نے کہا کہ اگر سابق جج کو سچ مچ یہ لگتا ہے کہ اس قانون کے ذریعے شہریوں کی جمہوری آزادیوں کو سلب کیا جا رہا ہے، تو انہیں خود دوبارہ وکالت کا سیاہ کوٹ زیب تن کرکے ان نوجوانوں کا کیس لڑنا چاہیے اور میدان عمل میں ان کی رہنمائی کرنی چاہیے۔
اداریے میں تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ جو نوجوان بھگت سنگھ اور اشفاق اللہ خان جیسے عظیم حریت پسندوں کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں، انہیں جیل، قید و بند اور قانونی نوٹسز سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ پارٹی نے واضح کیا کہ پیس بانڈ پر دستخط کر دینا کسی بھی صورت میں حکومت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے یا کسی جرم کا اعتراف کرنے کے مترادف نہیں ہے، بلکہ یہ صرف ایک روایتی انتظامی کارروائی ہے جس کا مقصد احتجاج کو جرم ثابت کرنا نہیں ہو سکتا۔ اسی بنیاد پر پارٹی نے سی جے پی اور آئسا جیسی طلبہ و عوامی تنظیموں کے کارکنوں کو حوصلہ دیتے ہوئے اپیل کی کہ وہ نافذ کرنے والے اداروں کی دھمکیوں اور انتظامی ہتھکنڈوں سے مرعوب نہ ہوں اور جمہوری دائرے میں اپنی آواز بلند کرتے رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق راجدھانی دہلی میں مختلف احتجاجی تحریکوں کے خلاف جس انداز سے دفعہ 107 اور 151 جیسی امن برقرار رکھنے کی شقوں اور خطیر رقم کے پیس بانڈز کا غیر معمولی استعمال شروع ہوا ہے، اس نے آئینی ماہرین اور انسانی حقوق کے محافظوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ ملک کے آئین کے تحت ہر شہری کو پرامن اجتماع اور اختلاف رائے کا بنیادی حق حاصل ہے، لیکن مسلسل پیشگی پابندیوں کے سبب جمہوری جگہیں سکڑتی جا رہی ہیں۔ اگر اس نوعیت کی رکاوٹیں مستقل پالیسی بن گئیں تو ملک کی گلی کوچوں سے عوامی مسائل کی بازگشت مکمل طور پر دب جائے گی۔




