منگلورو(فکروخبرنیوز) ساحلی کرناٹک کے اضلاع میں مانسون کے بعد جس موسمِ سرما کی توقع کی جا رہی تھی، وہ غائب نظر آرہا ہے اور اس کی جگہ نومبر سے پہلے ہی شدید گرمی اور تپش نے شہریوں کو بے حال کر دیا ہے۔ ستمبر اور آکتوبر کے مہینوں میں درجہ حرارت کی غیر معمولی بالادستی نے لوگوں کو وقت سے پہلے ہی گرمیوں کے موسم کا احساس دلا دیا ہے۔ زبردست حبس، پیاس اور تھکاوٹ کی وجہ سے ساحلی علاقوں کے شاہراہوں پر واقع ناریل پانی، گنے کے رس اور دیگر ٹھنڈے مشروبات کے اسٹالوں پر خریداروں کا زبردست ہجوم دیکھا جا رہا ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق ان علاقوں میں پچھلے دو دنوں کے دوران دن کا درجہ حرارت 28 سے 30 ڈگری سیلسیس کے درمیان ریکارڈ کیا گیا ہے، جو عموماً کڑکتی گرمیوں میں ہوتا ہے۔ دوپہر کے وقت شدید دھوپ اور پسینے کی وجہ سے لوگوں کا گھروں سے نکلنا دشوار ہو گیا ہے۔ مقامی شہریوں نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ موسم کی اس ناگہانی تبدیلی کی وجہ سے موسمی بیماریاں، بخاراور انفیکشن تیزی سے پھیل سکتے ہیں۔
اس غیر متوقع گرمی کی وجہ سے ناریل پانی کی دکانوں پر اور مقامی ناریل کی مانگ بے حد بڑھ گئی ہے۔ جبکہ اس طرح کی دیگر دکانیں بھی جگہ جگہ کھل رہی ہیں، دکانداروں کا کہنا ہے کہ جو اسٹاک صبح لگایا جاتا ہے، وہ شام ہوتے ہوتے بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر ٹھنڈے مشروبات، آئس کریم اور ناریل پانی کی اتنی بڑی مانگ دسمبر سے اپریل کے درمیان دیکھی جاتی تھی، لیکن اس بار ستمبر اور اکٹوبر میں ہی مانگ اس قدر بڑھ گئی ہے کہ بعض اوقات سامان کم پڑ جاتا ہے۔




