بنگلورو (فکروخبرنیوز) راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) نے اپنی صد سالہ تقریبات اور ویجیادشمی کی مناسبت سے اتوار کے روز بنگلورو سمیت کرناٹک کے متعدد علاقوں میں روٹ مارچ (پاتھ سنچلن) کا انعقاد کیا۔ اس موقع پر امن و امان کی صورتِ حال برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے انتہائی سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
بنگلورو کے جیانگر اور چامراج پیٹ جیسے حساس علاقوں میں نکالے گئے ان مارچوں میں بچوں، نوجوانوں اور معمر رضاکاروں نے یونیفارم میں شرکت کی۔ چامراج پیٹ میں روٹ مارچ مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا سدھاروڈھ آشرم پر اختتام پذیر ہوا۔ ان پروگراموں میں قائدِ حزبِ اختلاف آر اشوک، چلوادی نارائن سوامی اور سابق پولیس کمشنر بھاسکر راؤ سمیت بی جے پی کے متعدد سرکردہ رہنماؤں نے شرکت کی۔
دوسری جانب، انتظامی منظوری اور دیگر وجوہات کی بنا پر کئی اضلاع میں روٹ مارچ کے جدول میں تبدیلی دیکھنی پڑی۔ تمکورو میں گریجویٹ حلقے کے انتخابات کی وجہ سے مارچ ملتوی کر دیا گیا، جبکہ کولار کے ملباگل میں اسے 31 اکتوبر تک کے لیے معطل کیا گیا۔ چکمگلورو میں ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اجازت منسوخ کیے جانے کے بعد پروگرام ملتوی ہوا، جبکہ رام نگر اور گلبرگہ (کالابوراگی) میں سخت شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی جہاں منتظمین کو اشتعال انگیز تقاریر نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یہ روٹ مارچ ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ریاست میں اجازت نامے کو لے کر شدید سیاسی تنازع جاری ہے۔ کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ محض اطلاع دینا کافی نہیں بلکہ آر ایس ایس کو قانون کے مطابق باضابطہ پولیس سے اجازت لینی ہوگی۔ پریانک کھرگے نے آر ایس ایس کے لاٹھی لے کر مارچ کرنے اور سو سال گزرنے کے باوجود تنظیم کی رجسٹریشن اور آمدنی کے ذرائع پر بھی سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔




