کیا ووٹر لسٹوں کی تیاری میں مصنوعی ذہانت کا خفیہ استعمال ہوا؟ ای سی آئی نیٹ پر بڑا سیاسی تنازع

نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے الیکشن کمیشن آف انڈیا پر انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں استعمال ہونے والے ای سی آئی نیٹ (ECINET) سافٹ ویئر سے متعلق معلومات چھپانے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر اور مرکزی سطح پر چھیڑ چھاڑ کے لیے اس سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا ہے۔ جے رام رمیش نے مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹایا جائے اور ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔

جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ الیکشن کمیشن متنازع ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے سے مسلسل گریز کر رہا ہے، جبکہ یہی سافٹ ویئر ایس آئی آر کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک معروف قومی اخبار نے اتوار کو انکشاف کیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے حق اطلاعات قانون (آر ٹی آئی) کے تحت دائر درخواست کے جواب میں ایس آئی آر میں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر سے متعلق معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق، کمیشن نے نہ تو سافٹ ویئر کا نام واضح کیا اور نہ ہی یہ بتایا کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا استعمال کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، اے آئی کے ممکنہ استعمال کی صورت میں اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے کیے گئے حفاظتی اقدامات کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

جے رام رمیش نے کہا کہ ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے بارے میں شفافیت کی کمی سے انتخابی عمل کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے میں ضروری معلومات فراہم نہیں کر رہا، جس سے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر شہریوں کے شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔

کانگریس رہنما نے سوال اٹھایا کہ ملک کے شہریوں کو ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر کی تیاری میں ٹاٹا کنسلٹنسی سروسز (ٹی سی ایس) کے کردار کا علم کمپنی کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات کے ذریعے کیوں ہوا؟ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن کو خود اس بارے میں واضح اور شفاف معلومات فراہم کرنی چاہیے تھیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ الیکشن کمیشن ایس آئی آر اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی تردید کیوں کرتا رہا ہے، جبکہ ان کے بقول اس ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ای سی آئی نیٹ سافٹ ویئر اور الیکشن کمیشن کے آئی ٹی ڈویژن کے کام کاج پر الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے بھی متعدد اعتراضات اٹھائے تھے۔ ان کے مطابق، ان شکایات کا معاملہ محکمہ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) تک بھی پہنچا، جو وزیر اعظم کے ماتحت آتا ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ عوام کے درمیان انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ کے حوالے سے شکوک موجود ہیں۔ انہوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم، جے رام رمیش کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں چھیڑ چھاڑ، مصنوعی ذہانت کے استعمال اور الیکشن کمیشن کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنے سے متعلق لگائے گئے الزامات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔ ان کی پوسٹ میں الیکشن کمیشن کا اس معاملے پر موقف شامل نہیں ہے۔

شیئر کریں۔