جنتر منتر احتجاج کیس: کاکروچ جنتا پارٹی کے دو رہنماؤں کے مقدمہ کی تفتیش کرائم برانچ کے سپرد

دہلی پولیس نے جنتر منتر پر غیر قانونی داخلے اور احتجاج سے متعلق کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینرز آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کے خلاف درج مقدمے کی تفتیش باضابطہ طور پر کرائم برانچ کی انٹر اسٹیٹ سیل کو منتقل کر دی ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب دہلی پولیس کے ماتحت خصوصی ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت نے ضمانتی مچلکے مسترد کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں کی عدالتی تحویل میں مزید دو دن کی توسیع کر دی، جس کے خلاف اپوزیشن جماعتوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور قانونی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔

پولیس حکام کا الزام ہے کہ مظاہرین نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے غیر نامزد کیے جانے کے اگلے ہی روز ایک نجی احاطے کے ذریعے ممنوعہ علاقے میں داخل ہو کر قومی پرچم لہرایا، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالی۔ اس واقعے کے دوران ان کے ایک ساتھی اجنکیا شندے کو ذاتی مچلکے اور پانچ ہزار روپے کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا، لیکن سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کی ضمانتی دستاویزات کو تکنیکی بنیادوں پر نامنظور کر کے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا، جہاں وہ پہلے ہی چھ دن گزار چکے ہیں۔

اس کارروائی کے آئینی اور قانونی جواز پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ساکیت گوکھلے نے سنگین اعتراضات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا کہ دونوں نوجوان رہنماؤں کے خلاف نہ تو کوئی باضابطہ ایف آئی آر سامنے لائی گئی ہے اور نہ ہی انہیں کسی جوڈیشل مجسٹریٹ کے حکم پر قید رکھا گیا ہے۔ انہوں نے نظام پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس یعنی اے سی پی رینک کے افسر کو ہی اسپیشل ایگزیکٹو مجسٹریٹ بنا دیا گیا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ پولیس خود ہی الزام لگانے والی مدعی ہے اور خود ہی سزا کا فیصلہ سنانے والی جج بن بیٹھی ہے، جو کہ بنیادی شہری آزادیوں کا کھلا قتل ہے۔

سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے بھی اس صورتحال کا موازنہ الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے قتل کے مجرم کو بی جے پی کے ممکنہ ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کے لیے عمر قید سے ریلیف دیے جانے سے کیا اور حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ پارٹی کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ نے ایگزیکٹو مجسٹریٹ کورٹ کے عمل کو غیر جمہوری تماشا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی و پیشہ ورانہ پس منظر چھوڑ کر عام شہریوں اور پسماندہ طبقات کے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے پرامن نوجوانوں کے حوصلے اس جبری کارروائی سے نہیں توڑے جا سکتے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس غیر آئینی حراست کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں فوری قانونی چارہ جوئی کی جائے گی۔

جمہوری اور اقلیتی حقوق کے مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں اختلافِ رائے رکھنے والے پرامن کارکنوں کو معمول کے قانونی تحفظات اور باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بجائے پولیس مجسٹریسی کے ذریعے جیلوں میں بند رکھنا ایک خطرناک روایت بن چکی ہے۔ بھارت کے جمہوری ڈھانچے میں پرامن اجتماع اور عوامی مطالبات کی آزادی ہر شہری کا آئینی حق ہے، اور جب قانون نافذ کرنے والے ادارے خود ہی فیصلہ کن اختیارات سنبھال لیں تو انصاف کے بنیادی اصولوں پر عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہوتا ہے۔

کیس کی تفتیش کرائم برانچ کو سونپے جانے کے بعد اب قانونی ماہرین اور اپوزیشن رہنماؤں کی نظریں بدھ کے روز ہونے والی آئندہ سماعت پر لگی ہیں، جہاں یہ طے ہوگا کہ آیا ملزمان کو باقاعدہ جوڈیشل کورٹ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے یا ایگزیکٹو سطح پر ان کی حراست کو مزید طول دیا جائے گا۔

شیئر کریں۔