لندن: برطانیہ کے سب سے بڑے شرعی مطابقت کے دعوے کے ساتھ چلنے والے سرمایہ کاری فنڈ، ایچ ایس بی سی کے ’اسلامک گلوبل ایکویٹی انڈیکس فنڈ‘ نے 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران اسرائیلی فوج سے منسلک کمپنیوں میں 10 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے حصص خریدے۔ مڈل ایسٹ آئی (MEE) کی رپورٹ کے مطابق اس سرمایہ کاری میں دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی آر ٹی ایکس (RTX) سمیت متعدد ایسی کمپنیوں کے حصص شامل ہیں جن کی مصنوعات، ٹیکنالوجی یا کاروباری معاہدوں کا تعلق اسرائیلی فوج اور غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں سے بتایا گیا ہے۔
اس انکشاف نے برطانیہ میں اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والے افراد، خصوصاً ان حلال پنشن اسکیموں کے شرکاء کے لیے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں جو ایچ ایس بی سی کے اس فنڈ میں سرمایہ لگاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی بیشتر حلال پنشن اسکیمیں اسی فنڈ میں سرمایہ کاری کرتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا ہے جب برطانوی مالیاتی ادارے ایچ ایس بی سی کے اسی فنڈ کی جانب سے امریکی ٹیکنالوجی کمپنی پالانٹیر (Palantir) کے حصص خریدنے کی تفصیلات بھی سامنے آئی تھیں۔ مالیاتی ویب سائٹ ہائفن (Hyphen) نے 13 اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ فنڈ نے پالانٹیر کے حصص میں تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی، جب کہ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس کی مالیت 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر تھی۔
مڈل ایسٹ آئی نے فنڈ کی 2026 کی پہلی ششماہی کی سرگرمیوں اور اس کی نیم سالانہ رپورٹ کا تجزیہ کرتے ہوئے اسرائیلی فوج سے منسلک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
آر ٹی ایکس میں 3 کروڑ 57 لاکھ ڈالر، آئرن ڈوم کے لیے میزائلوں کے انٹرسیپٹر تیار کرنے والی کمپنی سے تعلق
رپورٹ کے مطابق ایچ ایس بی سی کے اسلامی فنڈ نے امریکی دفاعی کمپنی آر ٹی ایکس (RTX) کے حصص میں 3 کروڑ 57 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ آر ٹی ایکس دنیا کی دوسری سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی ہے۔
آر ٹی ایکس کی ذیلی کمپنی ریتھیون (Raytheon) اسرائیلی اسلحہ ساز ادارے رافیل (Rafael) کے ساتھ مل کر اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام کے لیے انٹرسیپٹرز تیار کرنے کے منصوبے سے وابستہ ہے۔ انٹرسیپٹر ایسے میزائل ہوتے ہیں جنہیں آنے والے میزائلوں یا دیگر فضائی خطرات کو راستے میں روکنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسلحہ تجارت کے خلاف سرگرم برطانوی تنظیم ’کیمپین اگینسٹ آرمز ٹریڈ‘ (CAAT) نے ریتھیون کو اسرائیلی فوج کے لیے میزائلوں اور دیگر سامان و خدمات فراہم کرنے والا ایک اہم ادارہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق کمپنی اسرائیل کی غزہ میں جنگ سے بھی منسلک رہی ہے۔
مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق ریتھیون اسرائیل کو ہزاروں میزائل فراہم کر چکی ہے، جن میں ایسے میزائل بھی شامل ہیں جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران انہیں استعمال کیا گیا۔ کمپنی ایف-15، ایف-16 اور ایف-35 لڑاکا طیاروں کے لیے ہتھیاروں کے نظام اور مختلف پرزے بھی فراہم کرتی ہے۔ یہ طیارے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے دوران استعمال کیے گئے ہیں۔
مڈل ایسٹ آئی نے اس معاملے پر آر ٹی ایکس سے تبصرہ طلب کیا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک کمپنی کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔
اینالاگ ڈیوائسز میں 2 کروڑ 3 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری، ایلبٹ سسٹمز کو پرزے فراہم کرنے کا معاملہ
ایچ ایس بی سی کے فنڈ نے امریکی سیمی کنڈکٹر کمپنی اینالاگ ڈیوائسز (Analog Devices) کے حصص میں بھی 2 کروڑ 3 لاکھ ڈالر لگائے۔
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق اس امریکی کمپنی نے 2024 میں غزہ پر اسرائیلی جنگ کے دوران اسرائیل کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی ایلبٹ سسٹمز (Elbit Systems) کو اہم پرزے فراہم کیے تھے۔ یہ معلومات آئرلینڈ سے متعلق تحقیقاتی ویب سائٹ ’آن دی ڈچ‘ (On the Ditch) کی رپورٹ کے حوالے سے پیش کی گئی ہیں۔
ایلبٹ سسٹمز کے بارے میں بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز (BDS) تحریک کے حوالے سے شائع شدہ معلومات میں کہا گیا ہے کہ یہ کمپنی اسرائیلی فوج کے زمینی دستوں کے تقریباً 80 فیصد سازوسامان اور اس کے 85 فیصد جنگی ڈرونز فراہم کرتی ہے۔
تاہم اینالاگ ڈیوائسز نے مڈل ایسٹ آئی کو اپنے جواب میں کہا کہ ایک عوامی طور پر درج کمپنی ہونے کے ناطے اس کے حصص آزاد مارکیٹ میں خریدے اور فروخت کیے جاتے ہیں، اور کمپنی کسی بھی فنڈ کے سرمایہ کاری کے فیصلوں کی ہدایت یا نگرانی نہیں کرتی۔
کمپنی نے مزید کہا کہ اس کی مصنوعات دنیا بھر میں مختلف مقاصد کے لیے فروخت ہوتی ہیں اور تمام فروخت امریکی اور دیگر قابلِ اطلاق برآمدی کنٹرول اور پابندیوں کے قوانین کے تابع ہوتی ہیں، جن میں جہاں ضروری ہو سرکاری لائسنس کی شرائط بھی شامل ہیں۔
ہنی ویل میں 1 کروڑ 89 لاکھ ڈالر، غزہ کے اسکول پر حملے میں استعمال ہونے والے میزائل کا معاملہ
ایچ ایس بی سی کے فنڈ نے امریکی صنعتی کمپنی ہنی ویل انٹرنیشنل (Honeywell International) کے حصص میں 1 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ یہ کمپنی ایسے سینسرز اور رہنمائی کے آلات تیار کرتی ہے جو مختلف ہتھیاروں میں استعمال ہوتے ہیں۔
الجزیرہ کی جون 2024 کی تحقیق کے مطابق ہنی ویل کا تیار کردہ ایک ’انرشیل میژرمنٹ یونٹ‘ (Inertial Measurement Unit)، جو ہتھیاروں کو درست سمت میں نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے، غزہ کے ایک اسکول پر حملے میں استعمال ہونے والے میزائل میں پایا گیا تھا۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جون 2024 میں ہونے والے اس حملے میں کم از کم 40 فلسطینی جاں بحق ہوئے تھے، جن میں 14 بچے اور نو خواتین شامل تھیں۔
مڈل ایسٹ آئی نے مزید بتایا کہ ہنی ویل کے برطانوی کاروباری شعبے کو 2022 اور 2023 کے دوران اسرائیل کو طیاروں کے پرزے برآمد کرنے کے لیے تین لائسنس بھی ملے تھے۔
اس معاملے پر ہنی ویل سے بھی تبصرہ طلب کیا گیا، تاہم کمپنی نے مڈل ایسٹ آئی کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
رولز رائس میں 1 کروڑ 76 لاکھ ڈالر، اسرائیلی بکتر بند گاڑیوں کے لیے انجنوں کی فراہمی
رپورٹ کے مطابق ایچ ایس بی سی کے اسلامی فنڈ نے برطانوی انجینئرنگ کمپنی رولز رائس (Rolls-Royce) کے حصص میں 1 کروڑ 76 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی۔ کمپنی کے کاروبار کا تعلق اسرائیلی فوج کے زیر استعمال بعض ٹینکوں اور بحری جہازوں کے انجنوں سے بتایا گیا ہے۔
رولز رائس اسرائیل کے مرکاوا ٹینکوں کے لیے انجن تیار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی جرمن ذیلی کمپنی ایم ٹی یو (MTU) کے ذریعے اسرائیلی بحری جہازوں سے متعلق انجنوں کی فراہمی بھی رپورٹ میں بیان کی گئی ہے۔
اپریل 2025 میں رولز رائس سلوشنز امریکہ (Rolls-Royce Solutions America) اسرائیل کی ایٹان بکتر بند فوجی نقل و حمل کی گاڑی (Eitan APC) کے لیے انجن فراہم کرنے کے معاہدے میں مرکزی ٹھیکیدار بنی تھی۔ یہ معاہدہ اسرائیل کو 18 کروڑ ڈالر کی ’فارن ملٹری سیل‘ (Foreign Military Sale) کے تحت سامان فراہم کرنے کے منصوبے کا حصہ تھا۔
رولز رائس کے ترجمان نے مڈل ایسٹ آئی کو بتایا کہ کمپنی سرمایہ کاروں کے اقدامات پر تبصرہ نہیں کرے گی۔
پالانٹیر میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر، اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ شراکت داری بھی زیر بحث
ایچ ایس بی سی کے اسلامی فنڈ کی سرمایہ کاری میں امریکی ڈیٹا اور نگرانی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی پالانٹیر (Palantir) بھی شامل ہے۔ ہائفن کی رپورٹ کے مطابق فنڈ نے اس کمپنی کے حصص میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالر لگائے۔
پالانٹیر نے 2020 کے بعد سے برطانیہ کے شہری اور دفاعی شعبوں میں 67 کروڑ پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے معاہدے حاصل کیے ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی کے مطابق کمپنی کا نام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق مباحث میں بھی سامنے آتا رہا ہے۔
جنوری 2024 میں پالانٹیر نے اسرائیلی وزارت دفاع کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا تھا۔ اس شراکت داری کا مقصد کمپنی کی ٹیکنالوجی کو ’جنگ سے متعلق مشنز‘ کی معاونت کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس حوالے سے برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی برطانوی شاخ نے بھی تشویش کا اظہار کیا تھا اور برطانیہ کے قومی صحت کے ادارے (NHS) کے ساتھ پالانٹیر کے معاہدے پر سوالات اٹھائے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے دوران ڈرون سے داغے جانے والے میزائلوں کے ذریعے شہریوں، صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کے تناظر میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اپریل 2025 میں پالانٹیر کے چیف ایگزیکٹو الیکس کارپ (Alex Karp) نے کمپنی کی ٹیکنالوجی کے ذریعے غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں میں معاونت کے الزامات کے جواب میں کہا تھا: ’’زیادہ تر دہشت گرد ہیں، یہ درست ہے۔‘‘ یہ بیان مڈل ایسٹ آئی کی جانب سے رپورٹ کیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز (Francesca Albanese) کی جولائی 2025 کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اس بات پر یقین کرنے کے معقول اسباب موجود ہیں کہ پالانٹیر نے خودکار پیش گوئی پر مبنی پولیسنگ ٹیکنالوجی، دفاعی بنیادی ڈھانچے، فوجی سافٹ ویئر کی تیز رفتار تیاری و تعیناتی اور مصنوعی ذہانت کا ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جس کے ذریعے میدانِ جنگ کے حقیقی وقت کے ڈیٹا کو یکجا کرکے خودکار فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اس رپورٹ میں بیان کردہ نکات پالانٹیر کی ٹیکنالوجی اور اس کے ممکنہ فوجی استعمال سے متعلق خدشات کو نمایاں کرتے ہیں۔
برطانوی اسلحہ ساز کمپنی بی اے ای سسٹمز کے حصص بھی فنڈ کے پاس
مڈل ایسٹ آئی کے مطابق ایچ ایس بی سی کے شرعی مطابقت والے فنڈ کے پاس برطانیہ کی سب سے بڑی اسلحہ ساز کمپنی بی اے ای سسٹمز (BAE Systems) کے 3 لاکھ 86 ہزار 784 حصص بھی موجود تھے، جن کی اس وقت کی مارکیٹ مالیت تقریباً 94 لاکھ ڈالر بتائی گئی۔
بی اے ای سسٹمز ایف-35 لڑاکا طیاروں کے مختلف پرزے تیار کرتی ہے۔ یہ طیارے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں استعمال ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ فنڈ کے پاس بکنگ ڈاٹ کام (Booking.com) اور ایکسپیڈیا (Expedia) کے حصص بھی تھے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے ان کمپنیوں کا نام ان اداروں میں شامل کیا گیا ہے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں میں جائیدادوں کی فہرستیں پیش کرتے ہیں۔ یہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دی جاتی رہی ہیں۔
یہ تفصیلات اس سوال کو مزید اہم بناتی ہیں کہ شرعی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کا دعویٰ کرنے والے فنڈز کن کمپنیوں کو اپنے سرمایہ کاری کے دائرے میں شامل کرتے ہیں اور ان کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں کا جائزہ کن معیارات پر لیا جاتا ہے۔
’معیار تبدیل کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں‘ — اسلامی مالیات کے ماہر
اسلامک فنانس گرو (Islamic Finance Guru) ویب سائٹ کے شریک بانی ابراہیم خان (Ibrahim Khan) نے مڈل ایسٹ آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان فنڈز کے سرمایہ کاری کے معیار کافی عرصہ پہلے طے کیے گئے تھے، اس لیے انہیں راتوں رات تبدیل کرنا آسان نہیں ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان معیارات کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا بھی چاہیے، خصوصاً اس وقت جب وہ برادری جس کی خدمت کے لیے فنڈ قائم کیا گیا ہے، کسی معاملے پر مضبوط موقف رکھتی ہو۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ایس بی سی کو اس سوال کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اس کا مناسب حل تلاش کرنا چاہیے۔
ابراہیم خان نے مزید کہا کہ ایچ ایس بی سی گزشتہ دو دہائیوں سے اس فنڈ کے ذریعے مسلم برادری اور اس کی پنشن اسکیموں کی خدمت کرتا رہا ہے، اس لیے اس معاملے کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو یکسر مسترد کرنے کے بجائے مسئلے کی اصلاح کی جانی چاہیے۔
ان کے مطابق، ’’یہ درست ہے کہ ہم ایچ ایس بی سی پر دباؤ ڈالیں اور اس سے بہتر معیار کا مطالبہ کریں، لیکن ہمیں اس کے ساتھ منصفانہ رویہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
ابراہیم خان کے بیان میں ایک طرف فنڈ کی سرمایہ کاری پر نظرثانی اور اصلاح کا مطالبہ ہے، تو دوسری طرف موجودہ نظام کے ساتھ معاملے کو منصفانہ انداز میں حل کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایچ ایس بی سی نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا
مڈل ایسٹ آئی نے ایچ ایس بی سی سے بھی اس سرمایہ کاری اور فنڈ کے شرعی معیار کے حوالے سے تبصرہ طلب کیا تھا، تاہم رپورٹ کی اشاعت تک بینک کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران اسرائیل سے سرمایہ کاری ختم کرنے یا اس سے تعلقات محدود کرنے کے لیے متعدد فنڈز پر کارکنوں اور سماجی تنظیموں کی جانب سے دباؤ بڑھا ہے۔ اس دباؤ کا پس منظر غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں سے متعلق اعتراضات ہیں۔
مڈل ایسٹ آئی نے مئی میں یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ برطانیہ کے سب سے بڑے سرکاری شعبے کے پنشن پول، بارڈر ٹو کوسٹ پنشنز پارٹنرشپ (Border to Coast Pensions Partnership)، نے گزشتہ سال خاموشی سے اسرائیلی حکومت کے بانڈز میں اپنی سرمایہ کاری فروخت کر دی تھی۔
بارڈر ٹو کوسٹ تقریباً 120 ارب پاؤنڈ، یعنی 160 ارب ڈالر کے اثاثوں کا انتظام کرتا ہے۔ اس کے تحت مقامی حکومتوں میں کام کرنے والے تقریباً 20 لاکھ افراد کے اثاثوں اور پنشن سے متعلق سرمایہ کاری کا انتظام کیا جاتا ہے۔
ایچ ایس بی سی کے اسلامی فنڈ سے متعلق یہ انکشاف اس وسیع تر بحث کا حصہ ہے کہ اسلامی مالیاتی اصولوں کے مطابق سرمایہ کاری کرنے والے اداروں کو ان کمپنیوں کی کاروباری سرگرمیوں، فوجی معاہدوں اور انسانی حقوق سے متعلق خدشات کا جائزہ کس حد تک لینا چاہیے، اور اگر موجودہ معیار ان خدشات کا احاطہ نہیں کرتے تو انہیں کس طرح بہتر بنایا جا سکتا ہے۔




