ایران اور امریکا کے درمیان خفیہ مذاکرات جاری، قطر کی تصدیق

خلیجی ریاست قطر نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ کے بادلوں کے سائے میں ایران اور امریکا کے درمیان اہم سفارتی رابطے اور بیک ڈور مذاکرات جاری ہیں۔ دوحہ میں منعقدہ گلوبل سیکیورٹی فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے انکشاف کیا کہ دونوں فریقین کے مابین تعلقات میں تعطل توڑنے اور جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سمیت بنیادی تنازعات کے حل کے لیے بات چیت جاری ہے، تاہم زمینی حالات کے پیشِ نظر خطے میں تنازع کے مزید پھیلنے کے خدشات بدستور موجود ہیں۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس نوعیت کے انتہائی حساس اور نازک مذاکرات کی کامیابی کے لیے میڈیا کی نظروں سے دور رازداری برقرار رکھنا بنیادی شرط ہوتا ہے۔ ماجد الانصاری نے وضاحت کی کہ عوامی سطح پر خبروں کا نہ آنا اس بات کی منفی علامت نہیں بلکہ اس امر کا اشارہ ہے کہ سفارتی کوششیں سنجیدگی اور خاموشی کے ساتھ اپنے مطلوبہ راستے پر آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ قطر ان تمام پرامن کوششوں کی مسلسل حمایت کرتا رہے گا جن کا مقصد مشرقِ وسطیٰ کو کسی بڑی تباہی سے بچانا اور تنازعات کو میز پر بیٹھ کر حل کرنا ہے۔

علاقائی سلامتی اور خلیجی ممالک کے باہمی اتحاد کا ذکر کرتے ہوئے قطری ترجمان نے واضح کیا کہ دوحہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی کے دفاع میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں، بحری راستوں کی بندش کے خطرات اور توانائی کی عالمی ترسیل پر منڈلاتے خطرات کے سبب پورا مشرقِ وسطیٰ ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں قطر کا کردار ایک بار پھر غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جو تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ متوازن رابطے برقرار رکھے ہوئے ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران نے نہ صرف عام شہریوں کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے بلکہ اس سے مسلم دنیا کی خود مختاری اور اسٹریٹجک استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ غزہ، لبنان اور خلیج کے ارد گرد جاری فوجی دباؤ کے دوران اگر یہ خفیہ سفارتی چینلز کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف بے گناہ شہریوں کے خلاف جاری محاذ آرائی میں کمی آئے گی بلکہ خطے کی اسلامی ریاستوں کو بیرونی مداخلت کے خطرات سے نکالنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

قطری حکام نے فی الحال مذاکرات کے آئندہ ادوار یا کسی حتمی معاہدے کے باضابطہ وقت کا اعلان نہیں کیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب واشنگٹن اور تہران کے اگلے اقدامات پر ٹکی ہیں کہ آیا دونوں دارالحکومت عسکری تصادم کی راہ ترک کر کے مستقل جنگ بندی اور جامع سفارتی حل کی جانب عملی پیش رفت کرتے ہیں یا نہیں۔

شیئر کریں۔