مغربی بنگال : پانچ ماہ میں عیسائیوں پر نفرت انگیز جرائم کے 60 واقعات

مغربی بنگال کے ضلع مغربی مدنا پور (پشچم مدنی پور) میں انتہا پسند ہندوتوا عناصر کی جانب سے اقلیتی عیسائی برادری کے تین خاندانوں پر وحشیانہ تشدد، خواتین کی سنگین بے حرمتی اور انہیں جبری طور پر مذہب تبدیل کرنے یعنی ‘گھر واپسی’ پر مجبور کرنے کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کی قانونی نمائندگی کرنے والے وکلاء اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کے مطابق، چندرا کونا پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع ایک بستی میں ۱۸ اکتوبر سے شروع ہونے والا یہ منظم ظلم و ستم ۲۰ اکتوبر منگل کی صبح تک مسلسل جاری رہا۔ انتہا پسندوں نے نہ صرف نہتے خاندانوں کے گھروں پر دھاوا بولا بلکہ خواتین پر بہیمانہ تشدد کیا اور ایک چودہ سالہ کمسن بچی کا گلا گھونٹ کر اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔

متاثرہ افراد کے وکیل اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، بجرنگ دل سے وابستہ افراد کے ایک ہجوم نے اتوار کی شام عیسائی خاندانوں کے مکانات کو گھیرے میں لے لیا اور ان پر عیسائیت چھوڑنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا۔ انکار پر حملہ آوروں نے گھر کے افراد پر لاٹھیوں اور گھونسوں سے حملہ کر دیا، جس کے دوران ایک خاتون کے سر پر اس قدر شدید چوٹ آئی کہ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ نیم بے ہوشی کے عالم میں خاتون کی ساڑھی کھینچ کر اس کی بے حرمتی کی گئی اور بعد ازاں اسے نام نہاد ‘طہارت کی رسم’ کے بہانے زبردستی نہلایا گیا۔ اگلی شام یعنی ۱۹ اکتوبر کو متاثرین کو زبردستی درگا پوجا پنڈال لے جا کر انجلی پیش کرنے اور ہندو رسومات ادا کرنے پر مجبور کیا گیا۔

اس بربریت کا بدترین پہلو چودہ سالہ نابالغ لڑکی کے ساتھ ہونے والا غیر انسانی سلوک تھا۔ عینی شاہدین اور وکلاء کے مطابق انتہا پسندوں نے بچی کا گلا دبایا، سرعام اس کے کپڑے تار تار کیے اور اسے اغوا کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کی کھلی دھمکیاں دیں۔ خوف و دہشت کے سائے میں اہل خانہ نے بچی کو کسی خفیہ محفوظ مقام پر منتقل کر دیا ہے، جبکہ بدمعاشوں نے خاندانوں کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے پولیس میں جانے یا شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو پورے خاندان کو زندہ جلا دیا جائے گا۔ منگل ۲۰ اکتوبر کی صبح ساڑھے سات بجے کے قریب حملہ آور تمام مردوں کو زبردستی اٹھا کر لے گئے اور خواتین کو مندر میں باقی رسومات کی ادائیگی کے لیے ہانکنے کی کوشش کی گئی۔

سب سے زیادہ افسوسناک اور مجرمانہ کردار مقامی پولیس کا سامنے آیا ہے۔ متاثرین نے جب ایمرجنسی نمبر ۱۰۰ پر کال کر کے مدد مانگی تو موقع پر پہنچنے والے پولیس اہلکاروں نے داد رسی اور تحفظ فراہم کرنے کے بجائے مظلوموں کو ہی حملہ آوروں کے مطالبات ماننے کا مشورہ دیا تاکہ وہ زندہ رہ سکیں۔ جب انسانی حقوق کے کارکنوں نے اعلیٰ سطح پر آواز اٹھائی تو پولیس نے مکان کا دورہ ضرور کیا، مگر اب تک ملزمان کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے حملے میں ملوث دلیپ مشرا، باپو دت چٹرجی، پوچا پاتار، رنجیت ڈولوئی، باپی مونڈل، پنٹو شا، ترون مونڈل، ارون مونڈل اور اسیت ڈولوئی سمیت کئی افراد کے نام براہِ راست سامنے لائے ہیں جن کا تعلق بجرنگ دل سے بتایا گیا ہے۔

آزاد نگراں ادارے ’انڈیا ہیٹ لیب‘ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مئی سے ستمبر کے درمیانی پانچ مہینوں میں عیسائیوں کے خلاف ٹارگٹڈ نفرت انگیز جرائم کے کم از کم ۶۰ سنگین واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ مغربی بنگال میں ریاستی سطح پر رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے بعد سے اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں اور مسلمانوں پر حملوں، ان کی عبادت گاہوں اور ذاتی شناخت پر شب خون مارنے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ پشچم مدنی پور اور اس کے قریبی اضلاع میں اقلیتی برادریاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں، جہاں اکثریتی بستیوں میں اقلیتوں کو محصور کر کے ان کی مذہبی آزادی چھیننے کی کوششیں کھلے عام کی جا رہی ہیں۔

شیئر کریں۔