بی جے پی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی خواہش: الہ آباد ہائی کورٹ نے قتل کے مجرم کی سزا پر لگا دی روک

الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک غیر معمولی عدالتی فیصلے کے تحت قتل کے ایک سنگین مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے مجرم نندن لال رائے عرف ببلو رائے کی سزا اور سزا یابی پر عبوری روک لگا دی ہے। عدالت عالیہ نے یہ رعایت اس بنیاد پر فراہم کی کہ ملزم ۲۰۲۷ء کے اوائل میں ہونے والے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر یا ممکن ہو تو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنا چاہتا ہے। عدالت نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا کہ اگر ملزم کی سزا معطل نہ کی گئی تو بطور سیاست دان اس کے انتخابی عمل میں حصہ لینے کا بنیادی حق ضائع ہو سکتا ہے۔

جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونے کمار دویدی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ۵ اکتوبر کو یہ فیصلہ نندن لال رائے کی زیر التوا اپیل میں دائر درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جاری کیا। بینچ نے سپریم کورٹ کی قانونی نظیروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاست دانوں پر اپنے حلقہ انتخاب کے تئیں خاص عوامی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں تبصرہ کیا کہ جیسے کسی عام شہری کے لیے روزگار کا حق بنیادی اور اہم ہے، ویسے ہی ایک عوامی نمائندے کے لیے الیکشن لڑنے کا موقع بھی اہمیت رکھتا ہے، اور حتمی فیصلہ آنے تک اپیل کنندہ کو اپنی بقا اور انتخابی حقوق کے تحفظ کے لیے عبوری راحت ملنی چاہیے۔

وارانسی کی ایک خصوصی عدالت نے اپریل ۲۰۲۵ء میں نندن لال رائے کو ۲۰۱۷ء کے دوران پرمود کمار نگم کے قتل کے جرم میں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ مقتول پرمود نگم رام جنم بھومی تحریک کے سرگرم رکن تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق نندن لال رائے کا ماضی میں سیاست دان مختار انصاری سے بھی تعلق جوڑا گیا تھا، جب کہ ان کے وکلا نے عدالت کے سامنے دلیل دی کہ وہ باضابطہ طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاسی کارکن رہے ہیں اور انہیں محض شک اور قیاس آرائیوں کی بنیاد پر اس مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔

بھارت کے جمہوری ڈھانچے اور انتخابی قوانین کے تحت دو سال یا اس سے زائد قید کی سزا پانے والے فرد پر پارلیمنٹ اور اسمبلی انتخابات میں حصہ لینے پر قانونی پابندی عائد ہو جاتی ہے۔ قانون کی اس شق کا بنیادی مقصد سیاست کو مجرمانہ عناصر سے پاک رکھنا ہے۔ ایسے پس منظر میں ایک ایسے شخص کو جس پر قتل کا سنگین جرم ماتحت عدالت سے ثابت ہو چکا ہو، محض الیکشن لڑنے کی خواہش کے تحت سزا کی معطلی کی رعایت دینا قانونی و اخلاقی سطح پر گہرے سوالات کو جنم دیتا ہے۔

سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں اس فیصلے کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس قسم کی عدالتی صوابدید سے سنگین جرائم کے ملزمان اور بااثر شخصیات کو جمہوری ایوانوں میں داخل ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اتر پردیش میں ۲۰۲۷ء کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اس پیش رفت نے ریاست کی سیاسی صف بندیوں کو ایک نیا رخ دیا ہے، جبکہ دوسری جانب مقتول کے لواحقین اور شفاف عدالتی نظام کے حامیوں کی نظریں اس بات پر لگی ہیں کہ آیا اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاتی ہے یا نہیں۔

شیئر کریں۔