قومی دارالحکومت نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی کی سرکاری رہائش گاہ کے بالکل قریب واقع تاریخی ریس کورس مسجد کو اراضی و ترقیاتی محکمے (ایل اینڈ ڈی او) نے غیر مجاز قرار دیتے ہوئے چھ دن کے اندر احاطہ خالی کرنے کا باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت کے اس محکمے کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے بعد دہلی کے مسلمانوں اور اقلیتی حلقوں میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ نوٹس سے قبل ہی ۷ اکتوبر کو مسجد کی بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی منقطع کر دی گئی تھی، جس کے نتیجے میں وہاں پنج وقتہ نماز ادا کرنے والے نمازیوں کے لیے وضو اور طہارت تک کا انتظام ناممکن ہو چکا ہے۔
انتظامیہ کے اس اقدام پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ملک کی سرکردہ مسلم تنظیم جمعیۃ علمائے ہند نے فوری طور پر مرکزی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے ایک نمائندہ وفد نے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو سے ملاقات کی اور تفصیلی یادداشت پیش کی۔ جمعیۃ نے تاریخی شواہد کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ مسجد اور اس سے متصل قدیم قبرستان ۱۹۷۷ کے دہلی گزٹ میں درج ہیں اور نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) کی باقاعدہ نوٹیفائیڈ ہیریٹیج فہرست کے ساتھ وزارتِ اقلیتی امور کی نظرثانی شدہ تاریخی دستاویزات کا بھی حصہ ہیں۔ وفد نے زور دیا کہ جب تک قانونی اور دستاویزی پوزیشن واضح نہیں ہو جاتی، تب تک مسماری یا بے دخلی کی کسی بھی کارروائی پر فوری روک لگائی جائے، جس پر وزیر موصوف نے ہر ممکن قدم اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔
دوسری جانب مسجد کے امام مولانا محمد ہارون نے دہلی وقف بورڈ کے سرد اور غیر سنجیدہ رویے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ وہ گزشتہ چھ ماہ سے وقف بورڈ کے اعلیٰ افسران کو اس سنگین خطرے سے آگاہ کر رہے تھے، لیکن بورڈ نے این ڈی ایم سی کو ایک رسمی خط لکھنے کے علاوہ کوئی ٹھوس قانونی قدم نہیں اٹھایا۔ امام کے مطابق مسجد کے ارد گرد ناکہ بندی کر کے عام راستے بند کر دیے گئے ہیں جس سے باہر سے پانی لانا بھی محال ہو گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وقف بورڈ نے نہ تو خود اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا اور نہ ہی مسجد انتظامیہ کو عدالتی چارہ جوئی کے لیے ضروری این او سی جاری کی، جس کے نتیجے میں ایک تاریخی وقف جائیداد لاوارث بن کر رہ گئی ہے۔
مسجد کے امام نے واضح کیا کہ سال ۲۰۲۱ میں حکومتی سطح پر کرائے گئے باضابطہ جائزے میں بھی ریس کورس مسجد کو کسی بھی قسم کا ناجائز قبضہ قرار نہیں دیا گیا تھا، کیونکہ یہ صدیوں سے اپنی اصل اراضی پر قائم ہے۔ یہ بے دخلی کی کارروائی دراصل اس وسیع تر مہم کا حصہ بتائی جا رہی ہے جس کے تحت ریس کورس روڈ کے اطراف مقیم جھگی بستیوں کو بھی ہٹایا جا رہا ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے حال ہی میں شہری انتظامیہ کو جھگیوں کے مکینوں کو شہر سے 45 کلومیٹر دور ساودا گھیورا منتقل کرنے کی اجازت دی تھی، لیکن اسی مہم کی آڑ میں ایک تسلیم شدہ تاریخی عبادت گاہ کو نشانہ بنانا قانونی تقاضوں کے برعکس ہے۔




