جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے احتجاج پر انتظامیہ متحرک،اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل

نئی دہلی میں واقع تاریخی اقلیتی تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے کیمپس میں جاری طلبہ کے احتجاج اور بھوک ہڑتال کے پیش نظر صورت حال کو سنبھالنے کے لیے ایک سات رکنی اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ بااختیار کمیٹی احتجاجی طلبہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے گی، ان کے زیر التوا مطالبات کا مفصل جائزہ لے گی اور تعلیمی ماحول میں معمولات و امن و امان بحال کرنے کے لیے ضروری تجاویز مرتب کرے گی۔

یونیورسٹی ہیڈکوارٹرز میں وائس چانسلر پروفیسر مظہر آصف کی صدارت میں سینئر انتظامی عہدیداروں کی ایک ہنگامی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں رجسٹرار پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، کنٹرولر امتحانات پروفیسر احتشام الحق، مختلف فیکلٹیز کے ڈینز اور چیف پبلک ریلیشنز آفیسر نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں کیمپس کی مجموعی کشیدہ فضا، طلبہ کی بھوک ہڑتال اور سیکیورٹی چیلنجز پر طویل مشاورت کی گئی۔ میٹنگ کے اختتام پر سینئر ڈینز اور معروف پروفیسرز پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا گیا تاکہ تعلیمی عمل میں تعطل کو ختم کیا جا سکے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ کا شمار ملک کے ان اہم ترین مرکزی اور اقلیتی اداروں میں ہوتا ہے جہاں طلبہ کے جمہوری حقوق، کیمپس کی خودمختاری اور جمہوری سرگرمیوں کے حوالے سے ہمیشہ ایک حساس فضا پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ کی جانب سے اٹھائے گئے بنیادی مطالبات اور بھوک ہڑتال کے بعد انتظامیہ کی جانب سے بیرونی سیکیورٹی اور پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری کی تعیناتی نے صورت حال کو مزید کشیدہ کر دیا تھا۔ طلبہ تنظیموں کا اصرار رہا ہے کہ پولیس کی موجودگی کے بجائے تعلیمی ادارے کے اندر جمہوری مکالمے کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔

سات رکنی کمیٹی جلد ہی بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے نمائندوں سے باضابطہ بات چیت شروع کرے گی اور ان کے مطالبات کا نکتہ وار جائزہ لے کر اپنی سفارشات یونیورسٹی کی اعلیٰ ترین قیادت کو پیش کرے گی۔

شیئر کریں۔