ہندوستان کے ٹیلی کام اور مواصلاتی شعبے میں تاریخی تبدیلیاں رونما ہونے کے قریب ہیں جہاں سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کی فراہمی کے محاذ پر عالمی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک، مکیش امبانی کی ریلائنس جیو اور سنیل متل کی ایئرٹیل کے درمیان تجارتی کشمکش کھلے تصادم کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ اسٹارلنک نے اعلان کیا ہے کہ اس نے حکومت سے ضروری بنیادی منظوریوں کے بعد اندرونِ ملک انفراسٹرکچر اور گیٹ ویز مکمل طور پر فعال کر لیے ہیں اور وہ صارفین کو تیز رفتار براڈبینڈ خدمات فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی بھارتی ٹیلی کام دگجوں نے ملکی خود مختاری، سیکیورٹی ضوابط اور منصفانہ مقابلے کی پاسداری کا سوال اٹھا دیا ہے۔
اسٹارلنک کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ پانچ برس سے زائد عرصے سے ہندوستانی ریگولیٹری اداروں کے ساتھ مسلسل تعاون کر رہی ہے اور ملکی صارفین کے انٹرنیٹ ٹریفک کو محفوظ رکھنے کے لیے مقامی سطح پر سرورز اور سیکیورٹی آلات نصب کیے گئے ہیں۔ تاہم تجارتی سطح پر خدمات شروع کرنے کی اجازت سے قبل حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی یا ملکی ادارے کو خصوصی رعایت نہیں دی جائے گی۔ مرکزی وزارت مواصلات نے مؤقف اپنایا ہے کہ تجارتی بنیادوں پر سگنلز کی فراہمی کا انحصار محض لائسنس کے حصول پر نہیں بلکہ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (ٹرائی) کے زیر نگرانی اسپیکٹرم کی شفاف تخصیص، رائلٹی فیس کے تعین اور قومی سلامتی کی شرائط کی مکمل توثیق پر ہوگا۔
اسٹارلنک کی ممکنہ آمد پر اپنے براہ راست ردعمل میں ریلائنس انڈسٹریز نے کہا ہے کہ وہ مسابقت سے خائف نہیں ہے لیکن ملکی قوانین کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ریلائنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جیو نے گزشتہ ایک دہائی میں پچاس کروڑ سے زائد صارفین کا اعتماد حاصل کیا ہے اور وہ مقابلے کو صارفین کے حق میں بہترین تسلیم کرتی ہے، تاہم بیرونی کمپنیوں پر بھی وہی ملکی قوانین لاگو ہونے چاہئیں جو مقامی کمپنیوں پر نافذ ہیں۔ کمپنی نے یاد دہانی کرائی کہ اس کا اپنا جیو سیٹ کام پروجیکٹ بھی آخری ضابطہ جاتی منظوریوں کا منتظر ہے، اس لیے ریگولیٹری امتیاز کا تاثر بالکل غلط ہے۔
معاملے کو مزید تند و تیز رخ اس وقت ملا جب ایئرٹیل کے سربراہ سنیل متل نے عالمی فورم پر گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کا مشترکہ پروجیکٹ ‘یوٹیل سیٹ ون ویب’ منظوریوں کی قطار میں اسٹارلنک سے آگے ہے۔ ان کے مطابق ون ویب پانچ سال قبل درخواست دے چکا تھا، اس کا زمینی نیٹ ورک تین سال سے تیار ہے اور سیٹلائٹس ہندوستانی خلا پر گردش کر رہے ہیں۔ یہ تمام بیانات ایلون مسک کی ان پوسٹس کے بعد سامنے آئے ہیں جن میں انہوں نے تجارتی حریفوں پر اجارہ داری قائم رکھنے اور سرکاری فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے الزامات عائد کیے تھے، جسے وزارت مواصلات نے بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔
مرکزی وزیر مواصلات جیوتی رادتیہ سندھیا کے مطابق تینوں اہم کمپنیوں کو اصولی لائسنس مل چکے ہیں جبکہ امیزون کے کوائپر پروجیکٹ نے بھی اس میدان میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا یہ نیا محاذ ملک کے دور دراز، پہاڑی اور پسماندہ دیہی علاقوں میں تیز رفتار ڈیجیٹل رسائی کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں زمینی فائبر کیبل بچھانا دشوار ترین مرحلہ رہا ہے۔ تاہم ریگولیٹری اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ یقینی بنانا ہے کہ تجارتی مقابلے کے دوران قومی ڈیٹا کی سلامتی اور مقامی سرمایہ کاروں کے لیے برابری کے مواقع ہر قیمت پر محفوظ رہیں۔




