ریاست بہار میں تین طلاق مخالف قانون کے نفاذ کے بعد عدالتی سطح پر سزا سنائے جانے کا پہلا باضابطہ معاملہ سامنے آیا ہے۔ پٹنہ کی ایک سیشن عدالت نے بہٹا کے رہائشی نوشاد احمد کو اپنی اہلیہ کو بیک وقت تین طلاق دینے کا مجرم قرار دیتے ہوئے دو سال کی سخت قید اور ساڑھے چھ ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ تاہم عدالت نے شواہد کی عدم موجودگی کے سبب ملزم کو بیوی پر تیزاب پھینکنے کی کوشش کے سنگین الزام سے بری کر دیا ہے۔
پٹنہ کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج (24) راجیو رنجن سہائے کی عدالت نے تمام گواہوں کے بیانات اور پیش کردہ دستاویزات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے بہٹا تھانہ کے تحت آنے والے گاؤں سمری کے رہائشی نوشاد احمد کو مسلم خواتین (شادی کے حقوق کا تحفظ) ایکٹ 2019 کی دفعہ 4 کے ساتھ ساتھ سابقہ تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 323 (مارپیٹ) اور دفعہ 341 (غیر قانونی طور پر روکنے) کے تحت قصوروار ٹھہرایا۔ عدالت نے واضح کیا کہ مقررہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید ایک ماہ اور بائیس دن قید کاٹنی ہوگی۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ رضیہ سلطان عرف گڑیا کا نکاح 9 نومبر 2001 کو نوشاد احمد کے ساتھ ہوا تھا اور ان کے تین بچے ہیں۔ متاثرہ خاتون نے پھلواری شریف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ سال 2022 کے دوران ملزم نے ان کے اور بچوں کے ساتھ شدید مارپیٹ کی تھی۔ اس کے بعد 5 ستمبر 2022 کو ملزم نے ایک ہی نشست میں زبانی طور پر تین طلاق دے کر ازدواجی رشتہ ختم کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے تفتیش مکمل کرنے کے بعد 31 جولائی 2023 کو عدالت میں باقاعدہ چارج شیٹ داخل کی تھی جس پر طویل سماعت کے بعد فیصلہ سامنے آیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ تیزاب حملے کی کوشش کے الزامات کو ٹھوس شواہد کے ساتھ ثابت کرنے میں ناکام رہا، جس پر عدالت نے ملزم کو اس الزام سے بری قرار دے دیا۔ دوسری جانب دفاعی وکیل شیکھر کمار نے اس عدالتی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بنیادی الزامات اور مبینہ تیزاب حملے کے معاملے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا تو ایسی صورت میں سزا کا فیصلہ قانونی اصولوں پر پورا نہیں اترتا۔ دفاعی فریق نے اعلان کیا ہے کہ عدالتی حکم نامے کی مصدقہ نقل حاصل کرنے کے بعد اس فیصلے کے خلاف پٹنہ ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی۔
سال 2019 میں مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کیے جانے والے مسلم ویمن پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ملک بھر میں بیک وقت تین طلاق یعنی طلاقِ بدعت کو ایک قابل دست اندازی پولیس اور غیر ضمانتی جرم قرار دیا گیا تھا۔ بہار میں اس قانون کے تحت یہ پہلا عدالتی فیصلہ ہے جس میں کسی شخص کو باقاعدہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔




