ملک میں روزمرہ استعمال ہونے والی بنیادی اشیائے خوردونوش کے معیار اور حفاظت پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی) کے حالیہ معائنے اور لیبارٹری جانچ کے دوران معروف برانڈز کے دودھ، بسکٹ اور کشمش کے نمونوں میں خطرناک حد تک غیر معیاری اجزاء اور ملاوٹ پائی گئی ہے۔ اس انکشاف کے بعد فوڈ ریگولیٹری ادارے نے پریاگولڈ بسکٹ بنانے والی کمپنی سوریا فوڈ اینڈ ایگرو، ڈوڈلا ڈیری اور یوئیر آرگینک فوڈز سمیت تین بڑی کمپنیوں کے خلاف فوری کارروائی شروع کر دی ہے۔
سرکاری جانچ کے دوران پریاگولڈ بسکٹ تیار کرنے والے یونٹ میں استعمال ہونے والے خام مال کے معائنے پر سنگین بدعنوانیاں سامنے آئیں۔ حکام کے مطابق انسانوں کے استعمال کے لیے بننے والے بسکٹوں میں ایسا چوکر استعمال کیا جا رہا تھا جس پر واضح طور پر جانوروں کے چارے کے لیے مخصوص ہونے کا لیبل چسپاں تھا۔ اس کے علاوہ فیکٹری کے اندر بنیادی حفظان صحت، ملازمین کی صفائی، کیڑوں سے بچاؤ کے انتظامات اور خام مال کے ذخیرہ اندوزی کے نظام میں بھی سنگین لاپروائی دیکھی گئی۔ ان سنگین خلاف ورزیوں کے بعد متعلقہ ادارے نے کمپنی کا فوڈ مینوفیکچرنگ لائسنس فوری طور پر معطل کرتے ہوئے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
ڈوڈلا ڈیری کے فل کریم دودھ کے تجزیاتی نمونوں میں بھی چونکا دینے والے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ابتدائی معائنے میں دودھ کے اندر چکنائی کی مقدار طے شدہ سرکاری معیار سے نمایاں طور پر کم پائی گئی۔ بعد ازاں تفصیلی لیبارٹری تجزیے میں یہ بات سامنے آئی کہ دودھ انسانی صحت کے لیے بالکل غیر محفوظ ہے۔ حتمی جانچ رپورٹ میں دودھ کے اندر کپڑے دھونے والے ڈٹرجنٹ اور کاسٹک سوڈا جیسے مضر صحت کیمیکلز کی موجودگی ثابت ہوئی ہے، جس کے بعد ڈائریکٹوریٹ نے کمپنی کی انتظامیہ کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
اسی معائنے کے تسلسل میں یوئیر آرگینک فوڈز کی جانب سے مارکیٹ میں بیچی جانے والی پیلی کشمش کے نمونوں کو بھی قوانین کے خلاف پایا گیا۔ نام نہاد نامیاتی اور محفوظ بتائی جانے والی اس کشمش میں کیڑے مار ادویات اور زہریلے کیمیکلز کی باقیات قانونی حد سے کہیں زیادہ ریکارڈ کی گئیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ کے دیگر کاروبار جیسے نارپدھم فوڈز، سن ریجس ہیلتھ کیریئرز اور شاہ کنٹی لال جینتی لال کو حفظان صحت، ناقص ریکارڈ اور اشیاء کو غیر محفوظ طریقے سے رکھنے پر سخت نوٹسز جاری کر کے فوری جواب طلب کر لیا گیا ہے۔
مارکیٹ میں منافع خوری کی خاطر عوام کی صحت سے کھلواڑ کا یہ رجحان براہ راست شہریوں کی زندگی اور بچوں کی نشوونما کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ دودھ اور بسکٹ جیسی بنیادی غذائیں ہر گھر کی روزانہ کی ضرورت ہیں، جن میں ڈٹرجنٹ اور جانوروں کے چارے کے اجزاء کی شمولیت فوڈ انسپکشن کے مجموعی ڈھانچے پر عوام کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچاتی ہے۔ صارفین کی سطح پر اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور عوامی حلقے ملوث کمپنیوں پر بھاری جرمانے اور مستقل پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ نوٹس حاصل کرنے والے تمام اداروں کے جوابات اور خامیوں کی درستگی کے عمل کی کڑی نگرانی کی جائے گی۔ جن کمپنیوں کے خلاف قانونی کیس درج کرنے کی منظوری دی گئی ہے، ان کی فائلیں باقاعدہ عدالتوں میں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ متعلقہ ایکٹ کے تحت ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔




