میرا نام عمر خالد ہے اور میں دہشت گرد نہیں: چھ سال سے بغیر ٹرائل کے جیل میں بند عمر خالد کا پیغام

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے سابق ریسرچ اسکالر عمر خالد نے، جو ستمبر 2020 سے دہلی فسادات سے متعلق سازش کے الزامات کے تحت جیل میں بند ہیں، ایک تفصیلی تحریر کے ذریعے قید کے دوران اپنے خیالات اور قانونی نظام کی خامیاں اجاگر کی ہیں۔ معروف اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا نے عمر خالد کا یہ پیغام سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ برسوں سے میڈیا میں عمر خالد کے خلاف یکطرفہ مہم چلائی جا رہی ہے لیکن خود انہیں اپنا موقف پیش کرنے کا موقع کبھی نہیں دیا گیا۔ کنال کامرا کے مطابق عمر خالد نے خاندان اور دوستوں کے ذریعے اپنے خیالات عوام تک پہنچائے ہیں، جس میں انہوں نے بغیر کسی عدالتی ٹرائل کے جیل میں چھ سال گزر جانے پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔

عمر خالد نے اپنے خط کا آغاز معروف جملے سے کیا کہ میرا نام عمر خالد ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ بات انہوں نے ایک دہائی قبل کہی تھی، لیکن آج کے دور میں اس جملے کی معنویت یہ بن چکی ہے کہ چونکہ ان کا نام عمر خالد ہے، اس لیے انہیں دانستہ طور پر دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز میں حکمران جماعت کے ترجمان انہیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ کہتے ہیں جبکہ عدالتِ عظمیٰ میں حکومت کے دوسرے سب سے بڑے لاء آفیسر نے ان کی اعلیٰ تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں دانشور دہشت گرد تک قرار دیا۔ خالد نے سوال اٹھایا کہ ان پر کس تخریبی کارروائی کا الزام ہے، کیا انہوں نے کوئی بم دھماکہ کیا، طیارہ اغوا کیا یا کسی کو یرغمال بنایا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان پر مہاراشٹر کے ایک قصبے میں گاندھیائی عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے اصولوں پر دی گئی تقریر پر دہشت گردی کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔

فروری 2020 کی اپنی اسی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے عمر خالد نے اپنے الفاظ دہرائے کہ ہم تشدد کا جواب تشدد سے اور نفرت کا جواب نفرت سے نہیں دیں گے، اگر وہ لاٹھیاں برسائیں گے تو ہم ترنگا لہرائیں گے، اگر گولیاں چلائیں گے تو ہم آئین ہند ہاتھ میں اٹھائیں گے، اور اگر وہ ہمیں جیل بھیجیں گے تو ہم سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا گاتے ہوئے جیل جائیں گے۔ خالد نے استفسار کیا کہ کیا عدم تشدد، محبت اور آئین کی بات کرنے والے الفاظ کسی دہشت گرد کے ہو سکتے ہیں، جبکہ دہلی پولیس نے ایک ہزار کلومیٹر دور دی گئی اس تقریر کو دہلی میں پھوٹنے والے فسادات کی ایک بڑی سازش قرار دے دیا۔

عمر خالد نے قانون کے نفاذ میں کھلے دوہرے معیار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بی جے پی رہنما کپل مشرا کا حوالہ دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فسادات شروع ہونے سے محض چند گھنٹے قبل زمینی سطح پر پولیس افسر کی موجودگی میں کھلے عام قانون ہاتھ میں لینے کی دھمکیاں دی گئیں، مگر ویڈیو شواہد موجود ہونے کے باوجود ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا اور نہ ہی گرفتاری عمل میں آئی۔ خالد کے مطابق کپل مشرا کو دہلی حکومت میں وزارت کے عہدے سے نوازا گیا جبکہ ان کے حصے میں طویل قید آئی، اور یہ واضح فرق صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کا نام کپل مشرا ہے اور میرا نام عمر خالد ہے۔

اس تفصیلی تحریر کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ الزامات کی بوچھاڑ اور میڈیا ٹرائل کے باوجود عمر خالد پر باقاعدہ عدالتی ٹرائل شروع نہیں ہو سکا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ٹیلی ویژن پر روزانہ کی بنیاد پر جھوٹ پر مبنی بحثیں نشر کر کے عوام کی ذہن سازی کی جا رہی ہے، لیکن عدالت کے اندر گواہوں پر جرح اور شواہد کی جانچ کا کوئی قانونی عمل شروع نہیں ہونے دیا جا رہا۔ تاریخ پر تاریخ کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے جبکہ یو اے پی اے جیسے سخت ترین قوانین کی آڑ میں ضمانت کے بنیادی حق سے مسلسل محروم رکھا جا رہا ہے۔

عمر خالد نے سول سوسائٹی اور عدالتی نظام سے بنیادی سوال اٹھایا کہ کیا کسی مہذب معاشرے میں کسی شہری کو صفائی کا موقع دیے بغیر محض الزام کی بنیاد پر لامتناہی مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی رہائی کے لیے منعقد ہونے والے پروگراموں، کتابوں کے مطالعے اور فلموں کی نمائش کو دانستہ طور پر روکا جا رہا ہے تاکہ سچائی عوام تک نہ پہنچ سکے۔ مختلف عدالتوں کی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد عمر خالد تاحال دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، جہاں وہ انصاف، مساوات اور ایک منصفانہ عدالتی سماعت کے منتظر ہیں۔

شیئر کریں۔