بچپن میں مگرمچھوں سے نہیں ڈرتے تھے، اب کاکروچ سے ڈر لگتا ہے‘‘ سی جے پی اور سماجی شخصیات کی مودی حکومت پر سخت تنقید

قومی دارالحکومت نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں طلبا تنظیموں، سرکردہ قانون دانوں اور معروف سماجی شخصیات نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت اور الیکشن کمیشن پر شدید نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) اور کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے نمائندوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بچانے کے لیے ریاستی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے اور انتخابی فہرستوں کے خصوصی جائزے (ایس آئی آر) کے نام پر کروڑوں شہریوں کے جمہوری حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے دہلی میں حالیہ مظاہروں کو کچلنے کے لیے پولیس طاقت کے بے جا استعمال، دارالحکومت کی جانب آنے والی ٹرینوں کی منسوخی، میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور سرگرم کارکنوں کی پیشگی گرفتاریوں کی شدید مذمت کی۔ شرکاء نے الزام لگایا کہ ووٹر فہرستوں سے تیرہ کروڑ کے قریب افراد کے نام خارج کیے گئے ہیں، جن میں پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور بالخصوص خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے۔ معروف سماجی کارکن انجلی بھاردواج نے اس موقع پر دہلی اور دیگر ریاستوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسی دستاویزات طلب کی جا رہی ہیں جو عام طور پر پسماندہ طبقات اور خواتین کے پاس دستیاب نہیں ہوتیں، جس کا سیدھا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کے حقِ رائے دہی کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

معروف قانون دان پرشانت بھوشن نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اقتدار کی تبدیلی کا جمہوری مطالبہ کرنا کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ جدوجہد نوجوانوں اور طلبا کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے اور تمام سیاسی و سماجی حلقے آئین اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے ان کی پشت پر کھڑے ہیں۔ معروف اداکار و سماجی رہنما پرکاش راج نے حکومت کی پالیسیوں پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ خود کو ہر خطرے سے بے خوف دکھانے والی قیادت آج طلبا، نوجوانوں اور احتجاج کرنے والے عام شہریوں کی آوازوں سے خوفزدہ دکھائی دے رہی ہے۔

کانفرنس میں موجود طلبا نمائندوں نے آئی آئی ٹی بمبئی کے طالب علم ساحل واکوڈے کی خودکشی کے بعد آزاد میدان میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے والدین کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تعلیمی اداروں میں دلت اور کمزور طبقات کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی سخت مذمت کی۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ مختلف بینرز کے نیچے جاری یہ احتجاج دراصل بنیادی آئینی حقوق، شفاف انتخابات اور سماجی برابری کا واحد عوامی محاذ ہے، جسے پولیس کی لاٹھیوں، گرفتاریوں اور قدغنوں کے ذریعے روکا نہیں جا سکتا۔

شیئر کریں۔