بنگلورو: کرناٹک ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کے زیرِ انتظام ہبلی کے ممتاز طبی ادارے ‘کرناٹک انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز’ (KIMS) میں خدمات انجام دینے والی ایک نرس کو گزشتہ 16 سالوں سے ذات کا صحت سرٹیفکیٹ (Caste Validity Certificate) جاری نہ کرنے کے معاملے پر ریاستی حکومت کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے انتظامی غفلت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ سال 2011ء میں ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود نرس کو اس کے جائز حقوق سے کیوں محروم رکھا گیا اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مالی نقصان کی رقم ذمہ دار افسران سے کیوں نہ وصول کی جائے۔
جسٹس ایم ناگپراسنا اور جسٹس ہیما کلکرنی پر مشتمل ڈویژن بینچ نے یہ حکم ‘موگیر’ ذات سے تعلق رکھنے والی نرس انسویا پی کوٹی کی جانب سے دائر کی گئی رٹ اپیل پر سماعت کرتے ہوئے جاری کیا۔ عدالت نے شدید تاسف کا اظہار کیا کہ بیماریوں اور مریضوں کی خدمت میں مصروف ایک معمولی نرس کو خود انتظامی رویے کے باعث مالی تنگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بینچ نے نوٹ کیا کہ اسی ادارے میں یکساں ذمہ داریاں نبھانے والی دیگر نرسوں کو 36,000 سے 67,550 روپے کا پے اسکیل مل رہا ہے، جبکہ درخواست گزار کو محض 10,000 روپے کی ماہانہ تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے واضح کیا کہ ایک مثالی آجر کے طور پر حکومت اپنے ملازمین کے حقوق پر اس طرح خاموش تماشائی نہیں بنی رہ سکتی اور نہ ہی انتظامی تاخیر کی وجہ سے کسی ملازم کو مستقل معاشی نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس طویل تاخیر کی وجوہات پیش کرے، تمام مراحل میں شامل ذمہ دار افسران کی نشاندہی کرے اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد کی رپورٹ پیش کرے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 29 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے، جہاں حکومت کو اپنا جواب داخل کرنا ہو گا۔




