بنگلورو (فکروخبر نیوز) کرناٹک میں ‘آروگیہ کوچھ’ اسکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے 108 ایمبولینس کے عملے نے تنخواہوں پر نظرثانی اور دیگر اہم مطالبات کی عدم منظوری کے خلاف بدھ کی رات 10 بجے سے کام کا بائیکاٹ کرنے اور اجتماعی استعفے دینے کا شدید انتباہ دیا ہے۔ اس فیصلے کے باعث بدھ کی رات سے ریاست بھر میں 108 ایمبولینس کی ایمرجنسی خدمات بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ دوسری جانب ریاستی وزیرِ صحت یو ٹی قادر نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی بھی قسم کے بلیک میل یا دباؤ کی حکمت عملی کے آگے نہیں جھکے گی۔
ملازمین کی تنظیم کے مطابق اس سے قبل حکومت کو 21 ستمبر تک کی آخری تاریخ دی گئی تھی۔ 22 ستمبر کو ٹھیکیدار کمپنی ‘جی وی کے ای ایم آر آئی’ (GVK EMRI) کے ساتھ ہوئے اجلاس میں مطالبات کا جائزہ لینے کی یقین دہانی پر احتجاج ملتوی کیا گیا تھا، مگر معاہدے پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین دوبارہ سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہیں۔ کرناٹک اسٹیٹ آروگیہ کوچھ (108) ایمپلائز ایسوسی ایشن کے صدر پرماشیویا نے بتایا کہ ریاست بھر میں 3,200 ڈرائیورز اور اسٹاف نرسیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹھیکیدار کمپنی دیگر ریاستوں میں معقول تنخواہیں دیتی ہے لیکن کرناٹک میں ملازمین کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر عوام کو مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور حکومت پر ہوگی۔
ملازمین کی اہم مانگوں میں 2017 سے التوا میں پڑی تنخواہوں کا سالانہ اضافہ، ایمبولینس آپریشن کے لیے تین شفٹوں کا نظام، تمام زونز کے لیے یکساں اجرت، حادثات میں فوت ہونے والے ملازمین کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضہ، اور لیبر ڈیپارٹمنٹ کے قواعد کے مطابق ہر ماہ کی 7 تاریخ سے پہلے تنخواہ کی ادائیگی شامل ہے۔ اس کے علاوہ بنیادی سہولیات جیسے غسل خانے، آرام گاہیں اور گاڑیوں کی صفائی کے لیے پانی کی فراہم کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے وزیرِ صحت یو ٹی قادر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اگلے دو ماہ کے لیے مکمل طور پر 108 سروس پر انحصار نہ کریں اور کہا کہ حکومت جلد ہی ایمرجنسی طبی سہولیات کا بہترین متبادل نظام قائم کرنے پر کام کر رہی ہے۔




