قومی دارالحکومت دہلی میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ خدمات کی معطلی اور میٹرو اسٹیشنوں کی بندش کے تنازع پر مرکزی حکومت اور دہلی پولیس نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن اور دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار کی جانب سے عدالتِ عظمیٰ میں باضابطہ حلف نامے داخل کیے گئے ہیں، جن میں واضح کیا گیا ہے کہ حکومت کا مقصد عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنا نہیں تھا بلکہ امن و امان کے ممکنہ بگاڑ کو روکنے کے لیے وقتی طور پر یہ سخت اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ مرکز نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان کے خلاف دائر توہینِ عدالت کی کارروائی کو خارج کیا جائے اور ماضی کے احکامات میں ضرورت کے مطابق ترمیم کی جائے تاکہ ہنگامی سیکیورٹی صورت حال میں انٹرنیٹ معطلی کا اختیار برقرار رہ سکے۔
یہ قانونی تنازع اس وقت کھڑا ہوا جب وکیل شیلیندر منی ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس اور انتظامیہ نے عدالتی احکامات کو پامال کیا۔ درخواست گزار کے مطابق، رائسینا ہل کے اطراف چار کلومیٹر کے دائرے میں انٹرنیٹ بند کرنا اور جی ٹی بی نگر اور وشو ودیالیہ جیسے اہم میٹرو اسٹیشنوں کے دروازے بند کر دینا سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی صریح خلاف ورزی تھی جس میں واضح کیا گیا تھا کہ کسی مظاہرے کو کنٹرول کرنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کو بلاجواز بند نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل خصوصی بینچ نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے داخلہ سکریٹری، دہلی پولیس چیف اور ڈی ایم آر سی کے سربراہ کو نوٹس جاری کیے تھے۔
دہلی پولیس نے اپنے دفاع میں عدالت کو بتایا کہ 9 اور 10 اکتوبر کی درمیانی مدت میں اٹھائے گئے اقدامات امن و امان قائم رکھنے کے لیے ناگزیر تھے۔ پولیس کمشنر کے حلف نامے کے مطابق، یہ فیصلے مخصوص حالات میں قانون کے دائرے میں رہ کر کیے گئے تھے اور ان کا مقصد دانستہ طور پر عدالت کی حکم عدولی کرنا نہیں تھا۔ پولیس نے یہ وضاحت بھی دی کہ کسی بھی شہری کو نوٹیفائیڈ ممنوعہ حدود سے باہر بلاوجہ حراست میں نہیں لیا گیا، اور اب بیریکیڈنگ کا ازسرنو جائزہ لے کر عوامی نقل و حرکت کو بحال کیا جا رہا ہے۔
دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے بھی اس معاملے پر عدالت کے روبرو حقائق پیش کیے۔ ڈی ایم آر سی کے چیئرپرسن کے مطابق، پورے نیٹ ورک کے 303 اسٹیشنوں میں سے صرف 45 اسٹیشنوں پر آمد و رفت کے راستے بند کیے گئے تھے، جبکہ انٹرچینج کی سہولیات مسلسل فعال رہیں۔ تاہم کارپوریشن نے تسلیم کیا کہ اس روز میٹرو مسافروں کی تعداد میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی اور یومیہ 58 لاکھ کے مقابلے میں صرف 32 لاکھ افراد نے سفر کیا۔ کارپوریشن کا موقف ہے کہ یہ گراوٹ میٹرو انتظامیہ کے اقدامات سے زیادہ مظاہروں کے خوف اور احتیاطی تدابیر کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی۔
یہ مقدمہ جمہوری معاشرے میں شہریوں کے بنیادی حقوق، پرامن احتجاج کے حق اور ریاست کے سیکیورٹی اقدامات کے مابین توازن پر ایک اہم بحث چھیڑ چکا ہے۔ انٹرنیٹ معطلی اور عوامی ٹرانسپورٹ کی بندش جیسے اقدامات سے عام شہریوں اور بالخصوص محنت کش طبقے کی روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے اس معاملے کی آئندہ سماعت پر یہ طے ہونے کی امید ہے کہ آیا امن عامہ کے نام پر شہری آزادیوں اور مواصلاتی رابطوں کو اس طرح محدود کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے یا انتظامیہ کے اختیارات پر مزید سخت قانونی قدغنیں عائد کی جائیں گی۔




